ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 480

سے خارج ہو کر اعتراض کرے گا۔عرب صاحب نے حضرت حجۃاﷲ کے جذب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ میں ۱۸۹۴ء میں لاہور آیا۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھے ایک کتاب آپ کی تصدیق میں اور ایک مولوی نے آپ کی تردید میں دی مگر میں نے دونوں وہیں کسی کو دے دیں اور پروا نہ کی۔مجھے کہا گیا کہ قادیان آئوں مگر میں نہ آیا اور اب خدا کی شان ہے کہ وہ اس قدر فاصلہ (رنگون) سے مجھے لایا اور اس قدر خرچ کثیر کے بعد مجھے آنا پڑا۔معرفتِ الٰہی سے نماز میں ذوق پیدا ہوتا ہے عرب صاحب نے عرض کیا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر دل نہیں ہوتا۔فرمایا۔جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔دیکھو! یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنیٰ سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خواہ نخواہ اس کی طرف کھنچاجاتا ہے اسی طرح پر جب انسان اﷲ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کے حسن واحسان کو پسند کرتا ہے تو دل بے اختیار ہو کر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے اس زندگی کامزہ اسی دن آسکتا ہے جبکہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے تمام لذّت اور ذوق دعا ہی میں محسوس ہو۔یاد رکھو کوئی آدمی کسی موت و حیات کا ذمہ وار نہیں ہوسکتا خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو۔جو لوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا کبھی مَرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے نامُراد جاتے ہیں وہاں ان کے لئے خزانہ نہیں ہے جس سے وہ لذّت اور خوشی حاصل کر سکیں۔جہنم و جنّت کی حقیقت انسان جس لذّت کا خوگرفتہ اور عادی ہو جب وہ اس سے چھڑائی جاوے تو وہ ایک دکھ اور درد محسوس کرتا ہے اور یہی جہنم ہے پس جبکہ ساری لذّتیں دنیا کی چیزوں میں محسوس کرنے والا ہوتو ایک دن یہ ساری لذتیں تو چھوڑنی پڑیں