ملفوظات (جلد 3) — Page 474
کی مرض ہے جو خطرناک ہے۔مرض دو قسم کی ہوتی ہے ایک مرض مختلف ہوتی ہے یہ وہ ہوتی ہے جس کا درد محسوس ہوتا ہے جیسے درد سر یا درد گردہ وغیرہ۔دوسری قسم کی مرض مرض مستوی کہلاتی ہے اس مرض کا درد محسوس نہیں ہوتا اور اس لئے مریض ایک طرح اس کے علاج سے تساہل اور غفلت کرتا ہے جیسے برص کا داغ ہوتا ہے بظاہر اس کا کوئی درد یا دکھ محسوس نہیں ہوتا لیکن آخر کو یہ خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے پس خدا پر ایسا ایمان جو عملی شہادتیں ساتھ نہیں رکھتا ہے ایک قسم کی مرض مستوی ہے۔صرف رسم و عادت کے طور پر مانتا ہے یا یہ کہ باپ دادا سے سنا تھا کہ کوئی خدا ہے اس لئے مانتا ہے اپنی ذات پر محسوس کرکے کب اس نے اس کا اقرار کیا۔یہ اقرار جس دن اس رنگ میں پیدا ہوتا ہے ساتھ ہی گناہوں کے میل کچیل کو جلا کر صاف کر دیتا ہے اور اس کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں جب تک آثار ظاہر نہ ہوں وہ ماننا نہ ماننا برابر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ یقین نہیں ہوتا اور یقین کے بغیر ثمرات ظاہر نہیں ہو سکتے دیکھو جن خطرات کا انسان کو یقین ہوتا ہے ان کے نزدیک ہرگز نہیں جاتا مثلاً یہ خطرہ ہو کہ گھر کا شہتیر ٹوٹا ہوا ہے تو وہ کبھی اس کے نیچے جانے اور رہنے کی دلیری نہ کرے گا یا یہ معلوم ہو کہ فلاں مقام پر سانپ رہتا ہے اور وہ رات کو پھرا بھی کرتا ہے تو کبھی یہ رات کو اٹھ کر وہاں نہ جائے گا کیونکہ اس کے نتائج کا قطعی اور یقینی علم رکھتا ہے پس اگر خدا کو مان کر ایک پیسہ کے سنکھیا جتنا بھی اثر اور یقین نہیں ہوتا تو سمجھ لو کہ کچھ بھی نہیں مانتا اور اصل یہ ہے کہ ساری خرابی کی جڑھ گیان کی کوتاہی ہے۔پنڈت صاحب۔میرا اصل منشا تو یہ ہے کہ خدا کی ہستی پر تو ایمان ہے مگر پھر بھی گناہ ہوتے ہیں۔حضرت اقدسؑ۔آپ کیوں کہتے ہیں کہ ایمان ہے۔ایمان تو انسان کے نفسانی جذبات کو مُردہ کردیتا ہے اور گناہ کی قوتوں کوسلب کر دیتا ہے۔آپ کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ گناہ سے بچنے کا علاج کیا ہے؟ میں یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ ایمان بھی ہو اور گناہ بھی ہو۔ایمان روشنی ہے اس کے سامنے گناہ کی ظلمت رہ نہیں سکتی بھلا یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ دن بھی چڑھا ہوا ہو اور رات کی تاریکی بھی بدستور موجود ہو یہ نہیں ہوسکتا۔پس اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ گناہ سے کیوں کر بچیں اس کا علاج وہی ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا ہو۔