ملفوظات (جلد 3) — Page 473
دیتی ہے جو اندر کی نجاستوں کو جلا کر صاف کرتی ہے یہ آگ ان نجاستوں کو جلاتی ہے جن کو بیم و رجا جلا نہ سکتے تھے۔پس یہ مقام انسان کے لئے تکمیل کا مقام ہے اور اس جگہ تک اسے پہنچنا ضروری ہے۔پنڈت صاحب۔میں خدا کامنکر نہیں ہوں اور نہ اس کے بندہ ہونے کامنکر۔حضرت اقدسؑ۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان دو قسم کا ہے ایک وہ ایمان ہے جو صرف زبان تک محدود ہے اور اس کا اثر افعال اور اعمال پر کچھ نہیں۔دوسری قسم ایمان باﷲ کی یہ ہے کہ عملی شہادتیں اس کے ساتھ ہوں۔پس جب تک یہ دوسری قسم کا ایمان پیدا نہ ہو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ ایک آدمی خدا کو مانتا ہے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کو مانتا بھی ہو اور پھر گناہ بھی کرتا ہو۔دنیا کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے ماننے والوں کا ہے۔میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کے ساتھ ہی وہ دنیا کی نجاستوں میں مبتلا اور گناہ کی کدورتوں سے آلودہ ہیں پھر وہ کیا بات ہے کہ وہ خاصہ جو ایمان باﷲ کا ہے اس کو حاضر ناظرمان کر پیدا نہیں ہوتا؟ دیکھو! انسان ایک ادنیٰ درجہ کے چوہڑے چمار کو حاضر ناظر دیکھ کر اس کی چیز نہیں اٹھاتا پھر اس خدا کی مخالفت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں دلیری اور جرأت کیوں کرتا ہے جس کی بابت کہتا ہے کہ مجھے اس کا اقرار ہے؟ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ دنیا کے اکثر لوگ ہیں جو اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں کوئی پر میشر کہتا ہے کوئی گاڈ کہتا ہے کوئی اور نام رکھتا ہے۔مگر جب عملی پہلو سے ان کے اس ایمان اور اقرار کا امتحان لیا جاوے اور دیکھا جاوے تو کہنا پڑے گا کہ وہ نرا دعویٰ ہے جس کے ساتھ عملی شہادت کوئی نہیں۔انسان کی فطرت میں یہ اَمر واقع ہے کہ وہ جس چیز پر یقین لاتا ہے اس کے نقصان سے بچنے اور اس کے منافع کو لینا چاہتا ہے دیکھو! سنکھیا ایک زہر ہے اور انسان جبکہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ اس کی ایک رَتی بھی ہلاک کرنے کو کافی ہے تو کبھی وہ اس کو کھانے کے لئے دلیری نہیں کرتا اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے پھر کیوں وہ خدا تعالیٰ کو مان کر ان نتائج کو پیدا نہیں کرتا جو ایمان باﷲ کے ہیں۔اگر سنکھیا کے برابر بھی اﷲ تعالیٰ پر ایمان ہو تو اس کے جذبات اور جوشوں پر موت وارد ہو