ملفوظات (جلد 3) — Page 39
میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے۔لیکن جنابِ الٰہی کو ان امور کی پروا نہیں۔اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات : ۱۴) یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔اب جو جماعت اتقیا ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں۔ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔الٰہی اور شیطانی الہام میں فرق اگر کوئی یہ خیال کرے کہ ان میں علماء بھی ہیں۔ملہم بھی ہیں تو یہ ایک خیالی بات ہے اور اس سے کوئی فائدہ اس مقصد کو نہیں پہنچ سکتا جو انسانی ہستی کا ہونا چاہیے۔یادرکھو وہ اَمر جس پر خدا راضی ہوتا ہے جب تک وہ نہ ہو نہ علم صحیح ہوتا ہے نہ الہام مفید۔جو شخص پاخانہ کے پاس کھڑا ہے۔پہلے تو اُس کو بدبو ہی آئے گی۔پھر اگر عطر اس کے پاس کیا جاوے تو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔جب تک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہو کچھ نہیں ملتا اور خدا سے قریب کرنے والی بات صرف تقویٰ ہے۔سچی آواز سننے کے لیے متقی بننا چاہیے۔میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو ہر آواز کو جو انہیں آجاوے الہام ہی سمجھتے ہیں حالانکہ اضغاثِ اَحلام بھی ہوتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ جو آوازیں انہیں سنائی دیتی ہیں وہ بناوٹی ہیں۔نہیں اُن کو آوازیں آتی ہوں گی مگر ہم ہر آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار نہیں دے سکتے جب تک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات نہ ہوں جو اﷲ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ان الہام کے دعویٰ کرنے والوں کو اپنے الہاموں کو اس کسوٹی پر پَرکھنا چاہیے اور اس بات کو بھی اُنہیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بعض آوازیں نری شیطانی ہوتی ہیں۔اس لیے ان آوازوں پر ہی فریفتہ ہو جانادانشم مند انسان کا کام نہیں بلکہ جب تک اندرونی نجاست اور گند دور نہ ہو اور تقویٰ