ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 458

غلط ہے کیونکہ علّت اور معلول کے سلسلہ کوتو دہریہ بھی مانتے ہیں۔مگر پھر خدا کو نہیں مانتے۔فلسفہ میں ذرا کچے جو رہتے ہیں وہ خدا کا نام لیتے ہیں ورنہ پکا فلسفی ضرور دہریہ ہوتا ہے۔حکیم نورالدین صاحب نے اس مقام پر حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ مجوسی لوگ اس دور تسلسل کو چرخہ اورزنجیر کہتے ہیں اور انہیں سے یہ مسئلہ لیا گیا ہے۔ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم تو کہتے ہیں کہ خدا کے وجود جیسا اور کوئی وجود روشن ہی نہیں ہے۔اس مقام پر حکیم نور الدین صاحب نے عرض کی کہ حضرت بہت دہریوں کے ساتھ میرا اتفاق ملنے کا ہوا ہے مگر ایک دہریہ میں نے نیا دیکھا اس کا یہ مقولہ ہے کہ خدا ایک ہستی ضرور ہے مگر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گلاب کا پھول ہوتا ہے اور ایک اس کی جڑھ جس سے وہ پھول نکلا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح خداتو مثل جڑھ کے ہے اور ہم وہ پھول ہیں مگر پھول جڑھ سے زیادہ عمدہ اور مفید ہوتا ہے۔اسی طرح ہم خدا سے افضل اور برتر ہیں دن بدن ترقی کر رہے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر انکار ہو سکتا ہے تو مخلوق کے وجود کا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کا تصرّف ہر آن میں اس کے ہر ذرّہ ذرّہ پر اس قدر ہے کہ گویا اس کی ہستی کوئی شَے ہی نہیں ہے اور بِلا اس کے تصرّف کے ہم نہ کچھ بول سکتے ہیں نہ کچھ کر سکتے ہیں۔جو طالب حق ہے وہ ہماری صحبت میں رہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسی ہی ذات ہے جن صفات سے قرآن شریف میں لکھا ہے۔ان صفات سے ہم اسے ثابت کر کے دکھا دیویں گے۔بڑی نادانی یہ ہے کہ ایک عالم کی بات کو وہ دوسرے عالم کے حواس سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ روزمرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک حواس سے دوسرے حواس کا کام نہیں لے سکتے مثلاً آنکھ ناک کا اور کان آنکھ کا کام نہیں دے سکتے۔جب خارج میں یہ حالت ہے تو باطن میں وہ کیا کہہ سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ انسان کو ایک اور حواس ملتے ہیں۔تب یہ اﷲ تعالیٰ کو شناخت کر سکتا ہے۔بجز اس کے ہرگز نہیں کر سکتا۔ایک دہریہ سے یہ سوال ہے کہ قبل ازوقت طاقت اور اقتدار