ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 457

اور ہے میں بہت فرق ہے۔غرضیکہ عقل سے بالکل خدا کا وجود ثابت نہیں ہوسکتا۔عقل کی حیثیت عرب صاحب نے کہا کہ اسلام کا کوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔یہ سچ ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ عقل بالکل نکمّی شَے ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے روٹی کے ساتھ سالن کہ اس کے سہارے انسان کھانا خوب کھا لیتا ہے۔ایسے ہی عقل ہے کہ اس سے ذرا (معرفتِ خدا) میں مزا آجاتا ہے ورنہ یوں عقل اس میدان میں بڑی نکمّی ہے۔خدا کی معرفت دوسرے حواس سے ہے کہ جس میں یہ عقل کوئی کام نہیں کرتی۔نہ تسلّی دیتی ہے ایک ناکارہ ہتھیار کی طرح ہے۔عرب صاحب نے سوال کیا، یہ ہم تو مان لیویں مگر دوسرے آدمی کو کیسے سمجھاویں کہ اور حواس ہیں؟ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ غیر کو ہم یہ جواب دیویں گے کہ جو لوگ ایسی بات کے اہل ہیں ان کی صحبت میں رہو کہ ان کو پتہ لگے کہ ان حواس کے علاوہ اور حواس بھی انسان کے اندر ہیں۔خدا کی معرفت کا ان سے پتہ لگتا ہے اور اور اُمور بھی ہیں جن پر انسان ایمان لاتا ہے۔۱ مثلاً روح، ملائک، اب عقل ان کے متعلق کیا بتلا سکتی ہے۔روح کے بقا اور ملائکہ کے متعلق کیا دلیل لاؤ گے۔کوئی شَے ظاہری طور پر ثابت شدہ تو ہے نہیں۔آپ ہی بتلاویں کہ خدا، روح، ملائک ان تین میں عقل نے کیا فیصلہ کیا ہے جو کچھ کیا ہے سب اٹکل ہے۔اصل بات کوئی نہیں اگر کہو عِلَّتُ الْعِلَل کے سلسلہ سے خدا کی معرفت تامہ ہوتی ہے تو یہ بات بھی