ملفوظات (جلد 3) — Page 443
ماننا تو گویا اپنی طرف سے ایک خداتجویز کرنا ہے اور اس طرح سے گویا خود انسان کا احسان خدا پر ہے کہ اس نے خدا کا پتہ لگایا۔اصل میں اس روز سے انسان کو سچی زندگی حاصل ہوتی ہے جس دن سے وہ خدا پر احسان نہیں رکھتا بلکہ خدا کا اپنے اوپر احسان مانتا ہے کہ اس نے خود اپنے وجود سے اسے خبر دی اور اسی دن سے سِفلی زندگی سے انسان کو نجات حاصل ہوتی ہے جس دن خدا کہے کہ میں غالب ہوں اور اس دن سے وہ ترکِ گناہ پر قادر ہوگا۔یہی وہ سلسلہ ہے جس سے انسان کو کامل یقین خدا پر حاصل ہوتا ہے مگر ؎ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ دنیا میں بھی ہر ایک شخص انعام و اکرام کے قابل نہیں ہوتا۔اسی طرح خدا کے انعام و اکرام بھی خواص پر ہوتے ہیں۔ایک چینی قیافہ شناس کی گواہی پھر عرب صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک چینی آدمی کے روبرو میں نے آپ (مرزا صاحب ) کی تصویر کوپیش کیا وہ بہت دیر تک دیکھتا رہا۔آخر بولا کہ یہ شخص کبھی جھوٹ بولنے والا نہیں ہے پھر میں نے اور تصاویر بعض سلاطین کی پیش کیں مگر ان کی نسبت اس نے کوئی مدح کا کلمہ نہ نکالا اور بار بار آپ کی تصویر کو دیکھ کر کہتا رہا کہ یہ شخص ہرگز جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔طاعون کا علاج خدا تعالیٰ کے پاس ہے حسب معمول نماز مغرب ادا کرنے کے بعد حضرت اقدس پھر دوبارہ تشریف لائے۔طاعون کا ذکر ہوا فرمایا کہ اب اس کا علاج خدا تعالیٰ کے پاس ہے عِنْدِیْ مُعَالِـجَاتٌ (الہام) اور اب یہ آیت بالکل صادق آگئی ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا (بنیٓ اسـرآءیل : ۵۹) یعنی ہم کوئی گائوں نہ چھوڑیں گے کہ اس کو ہلاک نہ کریں۔اسی طرح اب کوئی یہ