ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 442

ان کی نظر سے گذری تو اس نے اس سلسلہ کی طرف توجہ دلائی اور حقیقتِ اسلام ان پر منکشف ہوئی۔حضرت صاحب پھر خود عرب صاحب سے ان کے حالات دریافت کرتے رہے اور پوچھا کہ آپ کتنے دن تک رہ سکتے ہیں۔عرب صاحب نے بیان کیا کہ میں نے کلکتہ سے سیکنڈ کلاس کا واپسی ٹکٹ لیا ہے جس کی میعاد جنوری ۱۹۰۳ء تک ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ میری بڑی خوشی ہے کہ آپ اس دن تک ٹھہریں جب تک کہ ٹکٹ اجازت دیتا ہے۔اس پر عرب صاحب نے نیاز مندی سے عرض کی کہ کرایہ کی فکر نہیں میں زیادہ بھی ٹھہر سکتا ہوں۔پھر عرب صاحب اپنی مذہبی زندگی کی کیفیت حضرت اقدس کو سناتے رہے کہ میں اس مشرب کا آدمی تھا کہ خدا کے وجود پر بھی ایمان نہ تھا یہی خیال تھاکہ کھانا ہے اور کمانا ہے۔آئینہ کمالاتِ اسلام نے آخر اس غلطی سے نجات دے کر حضور کی محبت کا تخم دل میں جمایا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ حقیقی لذّات خدا میں ہیں خدا ہی کی تلاش کرو۔حقیقی لذّت خدا ہی میں ہے۔جو لذّات اس دنیا سے لے جاوے گا وہی اس کے ساتھ رہیں گی۔ایک دہریہ جب مَرے گا تو اسے یہی خیال ہو گا کہ میں وہیں ہوں اور صرف جسم جدا ہوا ہے اس کو حسرت ہی حسرت رہے گی۔جسم کے اندھے اچھے ہیں اور وہ قابل رحم ہیں بہ نسبت اس کے کہ دل کے اندھے ہوں۔سید احمد خان نے تفریط کی راہ لی۔اور ان (وہابیوں) نے افراط کی۔طرح طرح کی بدنماباتیں پیش کیں۔انسان ان کو کہاں تک قبول کرتا۔کوئی راہ تسلّی اور سکینت کی نہ تھی کہ انسان مانتا۔دین کا سارا حصہ ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیوے۔ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود خدا سمجھادے۔پھر جو سمجھنے والے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں بٹھاتا جاتا ہے۔انسان کو پوری سعادت تک پہنچانے کے واسطے خدا نے اور حواس رکھے ہیں۔اگر وہ نہ ہوتے تو پھر دین کو انسان سمجھ نہ سکتا اور اس وقت میں حقیقی طور پر انسان خدا پر ایمان لاتا ہے۔خدا پر ایمان اس کا ہے جسے خدا نے ہی ایمان دیا برہمو کی طرح زمین اور آسمان کو دیکھ کر پھر خدا کی ضرورت کو