ملفوظات (جلد 3) — Page 440
کام نہیں آتا اگر انسان مان کر پھر اسے پسِ پُشت ڈال دے تو اسے فائدہ نہیں ہوتا پھر اس کے بعد یہ شکایت کرنی کہ بیعت سے فائدہ نہیں ہوا بے سُود ہے۔خدا تعالیٰ صرف قول سے راضی نہیں ہوتا۔عملِ صالح کی تعریف قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عملِ صالح بھی رکھا ہے عملِ صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فساد نہ ہو۔یاد رکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں وہ کیا ہیں۔ریا کاری (کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے) عُجب (کہ وہ عمل کرکے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے) اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اس سے صادر ہوتے ہیں۔ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عملِ صالحہ وہ ہے جس میں ظلم، عُجب، ریا، تکبر اور حقوق انسانی کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو جیسے آخرت میں عملِ صالحہ سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عملِ صالحہ والا ہو تو سب گھر بچا رہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک تم میں عملِ صالحہ نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔ایک طبیب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ لے کر پیوے اگر وہ ان دوائوں کو استعمال نہ کرے اور نسخہ لے کر رکھ چھوڑے تو اسے کیا فائدہ ہوگا۔استغفار کی ضرورت اب اس وقت تم نے توبہ کی ہے اب آئندہ خدا دیکھنا چاہتا ہے کہ اس توبہ سے اپنے آپ کو تم نے کتنا صاف کیا اب زمانہ ہے کہ خدا تقویٰ کے ذریعہ سے فرق کرنا چاہتا ہے۔بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے انسان کے اپنے نفس کے ظلم ہی ہوتے ہیں ورنہ اﷲ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے۔بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا۔خواہ اسے علم ہویا نہ ہو اور ہاتھ اور پائوں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہیے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(الاعراف : ۲۴) یہ دعا اوّل