ملفوظات (جلد 3) — Page 431
شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر میں ہوں اور وہ کوچہ سر بستہ سا معلوم ہوتا ہے کہ تین بھینسے آئے ہیں۔ایک ان میں سے میری طرف آیا تو میں نے اسے مار کر ہٹا دیا۔پھر دوسرا آیا تو اسے بھی ہٹا دیا۔پھر تیسرا آیا اور وہ ایسا پُرزور معلوم ہوتا تھا کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس سے مفرّ نہیں ہے خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا میں نے اس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اس کے ساتھ رگڑ کر نکل جائوں میں وہاں سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے خیال آیا کہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا۔مگر میں نے پھر کر نہ دیکھا اس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُـرْنِیْ وَارْحَـمْنِیْ اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسمِ اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو اسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے اسے نجات ہو گی۔ایک آریہ میرے پاس دوا لینے آیا کرتا ہے۔میں نے اسے یہ خواب سنائی تو اس نے کہا کہ مجھے بھی لکھ دو۔میں نے لکھ دیا اور اس نے یاد کر لیا۔ایک اور رئویا اس خواب کے بعد پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گھوڑے کا سوار ملا۔جب میں گھر کے قریب آیا تو ایک شخص نے میرے ہاتھ پر پیسے رکھے۔میں نے خیال کیا کہ اس میں دَوَنّی چَوَنّی بھی ہوگی۔آگے آیا تو دیکھا کہ فـجّو (فضل نشان )کشمیری عورت بیٹھی ہے۔پھر جب مسجد میں گیا تو دیکھا کہ ہزارہا آدمی بیٹھے ہیں اور کپڑے سب کے پرانے معلوم ہوتے ہیں۔مسجد میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک جنازہ رکھا ہوا ہے اس کی بڑی سی چارپائی ہے یہ معلوم نہیں کہ کس کا جنازہ ہے۔آپ مغرب کی نماز ادا کر کے تشریف لے گئے اور پھر کوئی ایک گھنٹہ کے بعد تشریف لائے فرمایا کہ آج جو مجھے خواب میں الہام سے کلمات بتلائے گئے ہیں۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کو نماز میں دعا کے طور پر پڑھا جاوے اور میں نے خود تو پڑھنے شروع کر دیئے ہیں۔سُوئِ ظنّ کرنا اچھا نہیں بدظنی پر آپ نے فرمایا کہ دوسرے کے باطن میں ہم تصرّف نہیں کر سکتے اور اس طرح کا