ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 414

۳۰؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ(بوقتِ سیر) تقویٰ قریب آٹھ بجے کے حضرت اقدس سیر کے واسطے تشریف لائے۔طاعون کے ذکر پر ایک جگہ فرمایا کہ خدا کا وجود ثابت ہو رہا ہے مجھے تو اسی میں مزا آتا ہے ساری جڑ تقویٰ اور طہارت ہے اسی سے ایمان شروع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آبپاشی ہوتی ہے اور نفسانی جذبات دبتے ہیں۔سلسلہ کی ترقی پھر اعجاز احمدی اور اپنے سلسلہ کی بے نظیر ترقی پر فرمایا کہ اگر کذّاب کا یہ حال ہے تو پھر صدق کی مٹی پلید ہے ان لوگوں میں ایسی روحیں بھی ہیں جن پر ایک سخت انقلاب آوے گا جیسے آنحضرتؐکے زمانے میں ابو سفیان ایک بڑا ضعیف القلب اور کم فراست والا آدمی تھا جب آنحضرتؐنے مکہ پر فتح پائی تو اسے کہا کہ تجھ پرواویلا۔۱ اس نے جواب میں کہا کہ اب سمجھ آگئی کہ تیرا خدا سچا ہے اگر ان بتوں میں کچھ ہوتا تو یہ ہماری اس وقت مدد کرتے۔پھر جب اسے کہا گیا کہ تو میری نبوت پر ایمان لاتا ہے؟ توا س نے تردّد ظاہر کیا اور اس کی سمجھ میں توحید آئی اور نبوت نہ آئی۔بعض مادے ہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں فراست کم ہوتی ہے جو توحید کی دلیل تھی وہی نبوت کی دلیل تھی مگر ابو سفیان اس میں تفریق کرتا رہا۔اسی طرح سعید لوگوں کے دلوں میں اثر پڑ جاوے گا سب ایک طبقے کے انسان نہیں ہوتے۔کوئی اوّل جیسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔کوئی اوسط درجہ کے اور کوئی آخر درجہ کے۔میری ایک پرانی وحی ہے يَخِرُّوْنَ عَلَى الْاَذْقَانِ سُجَّدًا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّا كُنَّا خَاطِـئِيْنَ یعنی