ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 404

عالمگیر موت جو آتی ہے اس کا علاج بجز ایمان کے صیقل اور یقین کی جلا کے ہرگز ممکن نہیں۔طاعون کا علاج یہ زمینی چیز نہیں ہے کہ زمین اس کا علاج کرے یہ آسمان سے آتی ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا یہ رِجْزٌ مِّنَ السَّمَآءِ ہے سابقہ انبیاء کے وقت بھی یہ بطور عذاب کے ایک نشان ہوتا رہا ہے پس اس کا علاج یہی ہے کہ اپنے ایمان کو اس کی انتہائی غایت تک پہنچا دو۔اس کے آنے سے پیشتر اس خدا سے صلح کرو۔استغفار کرو۔توبہ کرو۔دعاؤں میں لگو۔اس کی کوئی دوائی نہیں ہے مرض ہو تو دوا ہو۔یہ تو ایک عذابِ الٰہی اور قہرِ ایزدی ہے بجز تقویٰ کے اس کا کیا علاج ہے؟ یاد رکھو کہ اگر گھر بھر میں ایک بھی متقی ہوگا تو خدا اس کے سارے گھر کو بچاوے گا بلکہ اگر اس کا تقویٰ کامل ہے تو وہ اپنے محلّے کا بھی شفیع ہو سکتا ہے اگر چہ متقی مَر بھی جاوے تو وہ سیدھا جنّت میں جاتا ہے مگر ایسے وقت میں جبکہ یہ موت ایک قہرِ الٰہی کا نمونہ ہے اور بطور نشان کے دنیا پر آتی ہے میرا دل ہرگز شہادت نہیں دیتا کہ کوئی متقی اس ذلّت کی موت سے مَرے۔متقی ضرور بچایا جاوے گا۔کشتی نوح کا بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بنائو میں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دیوے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دیوے تو اسے ہرگز فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔جس سے وہ خود محروم ہے۔کشتی نوح کو بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بنائو۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس :۱۰)۔یوں تو ہزاروں چور، زانی، بدکار، شرابی، بدمعاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا وہ درحقیقت ایسے ہیں؟ ہرگز نہیں اُمتی وہی ہے جو آپ کی تعلیمات پر پورا کاربندہے۔