ملفوظات (جلد 3) — Page 391
ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور پھر تو سارے انگریز رجوع باسلام ہو جاویں فرمایا۔دنیا میں ایک حرکت ہے ان کی مثال تو یہ ہے کہ جیسے تسبیح کا دانہ نکل جاوے تو باقی بھی نہیں ٹھہرتے خواہ پادری پیٹتے ہی رہیں تمام انگریز ٹوٹ پڑیں۔اﷲ تعالیٰ کے دائو ایسے ہی ہوتے ہیں۔مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ( اٰل عـمران : ۵۵) پھر ڈوئی کا اخبار آپ نے سنا اور فرمایا کہ پگٹ کی شہرت ڈوئی سے بہت زیادہ ہے۔۱ ۱۹؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ(بوقتِ سیر) اعجازِ احمدی کے متعلق ذکر شروع رہا۔مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ ہماری طرف سے کوئی استدعا نہ تھی۔حضرتؑ نے فرمایا کہ خود ان کا خط موجود ہے۔يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا (مریم : ۳۴) اس آیت پر فرمایا کہ ان مولویوں کی حسرت ہی ہو گی کہ اُبْعَثُ کا لفظ کیوں آیا کاش اُنْزَلُ کا لفظ ہوتا۔پگٹ شیطان کامظہر اس کے بعد مسٹر پگٹ کا ذکر ہوا کہ ان لوگوں کو اس لئے دعویٰ کرنے کی جرأت ہو جاتی ہے کہ قوم نے مان لیا ہے کہ وہ وقت قریب ہے کہ مسیح آوے ورنہ کثرت رائے قوم کی اس طرف ہوتی کہ وقت دور ہے تو یہ دعویٰ نہ کرتا۔شیطان کے بھی مظہر ہوتے ہیں شیطان نے اس زمانہ میں اپنے مظہر کے لئے پگٹ کو ہی پسند کیا ہے۔فوٹو گرافی کا جوازاور اس کی ضرورت فی زمانہ تصویر کی ان لوگوں کے بالمقابل کس قدر حاجت ہے۔ہر ایک رزم بزم میں آج کل تصویر