ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 379

ہوتی اگر ہو تو جلد جاتی رہتی ہے۔خدا کے واسطے دوستی ہو تو وہ باقی رہتی ہے وہ ذات پاک قدوس ہے وہی دلوں میں پاکیز گی بھرتاہے اورسینوں کو کدورتوں سے صاف کرتاہے۔تقویٰ اور استقامت اختیار کرو شیخ فضل حق صاحب نو مسلم پشاور سے آئے ہوئے تھے ان کی مو جودہ حالت پر فرمایاکہ اوائل میں جوسچامسلمان ہوتاہے اسے صبر کرناپڑتا ہے صحابہ ؓ پر بھی ایسے زمانے آئے ہیں کہ پتے کھا کھا کر گذارہ کئے بعض وقت ان کو ٹکڑا بھی میسر نہیں آتا تھا کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک خدا بھلائی نہ کرے جب انسان تقویٰ اختیار کرتاہے تو خدا اس کے واسطے دروازہ کھول دیتاہے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ( الطّلاق : ۳ ) خدا پر سچاایمان لاؤ اس سے سب کچھ حاصل ہو گا استقامت چاہیے۔انبیاوؤں کو جس قدر درجات ملے ہیں استقامت سے ملے ہیں۔اور یوں خشک نمازوں اور روزوں سے کیا ہو سکتا ہے؟ بَیعت پر آخر دَم تک قائم رہو اس کے بعد تین احباب نے بیعت کی حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو بیعت کی اس پر آخر دم تک قائم رہو۔تب خدا راضی ہوتا ہے۔طاعون کے ذکر پر فرمایاکہ ہم کسی کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے خدا تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ جو شخص تقویٰ اختیارکرے گا وہ اس کو نجات دے گا اس لئے تقویٰ اختیار کرو۔ہماری جماعت دراصل مطعون تو ہوچکی ہے کہ مخالفین کا نشانہ بنی ہوئی ہے اس طرح سے طاعون اپناکام اس میں کر چکی ہے۔ناول نویسی ایک صاحب نے حکیم صاحب کی معرفت کہاکہ اگر بعض واقعاتِ حقہ کو ناول کے پیرایہ میں بیان کیا جاوے تو یہ اَمر معیوب تونہیں ہے۔فرمایا۔اس میں معصیت نہیں ہے مطالب کو سمجھانے کے واسطے ہمیشہ زید و عمر و بکر کا ذکر فرضی طور