ملفوظات (جلد 3) — Page 376
لنڈن میں جھوٹے مسیح پگٹ کے بعد سچے مسیح کا قدم ہوگا کچھ عرصہ ہوا کہ مفتی محمد صادق صاحب نے ایک خط مسٹر پگٹ مدعی مسیح کو لندن میں لکھ کر مزید حالات اس کے دعویٰ کے دریافت کئے تھے اس کے جوا ب میں پگٹ کے سکرٹری نے دو اشتہار اور ایک خط روانہ کیا تھا وہ حضرتؑکو سنائے۔۔۔۔۔پگٹ کے اشتہار کا عنوان انگریزی لفظ میں تھا جس کے معنے ہیں کشتی نوح۔فرمایا۔اب ہماری سچی کشتی نوح جھوٹی پر غالب آجائے گی۔اور فرمایا کہ یورپ والے کہا کرتے تھے کہ جھوٹے مسیح آنے والے ہیں سو اول لنڈن میں ایک جھوٹا مسیح آگیا اس کا قدم اس زمین میں اوّل ہے بعد ازاں ہمارا ہو گا جو کہ سچا مسیح۱ ہے اور یہ جو حدیثوں میں ہے کہ دجّال خدائی اور نبوت کا دعویٰ کرے گا تو موٹے رنگ میں اب اس قوم نے وہ بھی کر دکھایا۔ڈوئی امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اور پگٹ لندن میں خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔اپنے آپ کو خداکہتا ہے پگٹ کا خدا ہونا دوسرے لفظوں میں یہ گویا انجیل کی شرح آئی ہے اسے ایک فائدہ ہوا ہے کہ مسیح کو خداماننے سے چھوٹ گیا کیونکہ آپ جو ساری عمر کے لئے خود خدا ہو گیا۔۲ ۱۲؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ(بوقتِ مغرب) آخری زمانہ کی علامات اس وقت مفتی محمد صادق صاحب نے خبر سنائی کہ لاہور سے ایک انگریزی رسالہ نکلتا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ ان ایام میں دنیا میں مختلف مقامات پر بڑی کثرت سے زلزلہ آرہے ہیں اور آتشی مادہ زمین سے نکل رہے ہیں اور زمین اونچی ہوتی جاتی ہے فرانس کے محققین نے لکھا ہے کہ دنیا کی قدیم سے قدیم تواریخ میں زمین کے اس عظیمہ تغیّر کی کہیں خبر نہیں ملتی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یوں تو زمین سے ہمیشہ کانیں نکلتی رہتی ہیں اور آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہتے ہیں مگر اب خصوصیت سے ان زلزلوں کا آنا اور زمین کا اٹھنا یہ آخری زمانہ کی علامتوں سے ہے اور اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا(الزّلزال : ۳) اسی کی طرف اشارہ ہے زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا چاہتا ہے۔اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ حکیم نورالدین صاحب نے عرض کی کہ لوہا آج تک اس کثرت سے زمین سے نکلا ہے کہ اگر ایک جگہ جمع کیا جاوے تو ایک اور ہمالہ پہاڑ بنتا ہے۔لوہے کی کانوں کی آج تک تہہ نہیں ملی کہ کہاں تک نیچے نیچے نکلتا آتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے بھی سونا اور چاندی کو چھوڑ کر اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ (الـحدید : ۲۶) ہی کہا ہے (یعنی یہی بنی نوع انسان کے لئے زیادہ نفع رساں ہے) کلام کے معجزہ کی اہمیت پھر کلام کے معجزہ پر فرمایا کہ صفحہ روزگار میں یاد رکھنے کے لئے جیسے یہ نشان ہوتا ہے اور کوئی نہیںیہ بھی ایک ختمِ نبوت کا نشان تھا اب بھی قرآن شریف کو جو کوئی دیکھے گا تو اسے وہ معجزہ ہی نظر آوے گا اگر موسٰی کا سونٹا بھی اس شان کا ہوتا تو چاہیے تھا کہ وہ بھی کسی صندوق میں آج تک محفوظ چلا آتا اور یہودی لوگ اس کی زیارت کرواتے کہ یہ موسیٰ کا سونٹا ہے جسے اس نے سانپ بنایا تھا یہی حال مسیح کے مریضوں کی صحت کا ہے اب تو یہ عیسائی لوگ پچھتا تے ہوں گے کہ کاش عیسٰیؑ کوئی کتاب ہی بنا کر چھوڑ