ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 372

بھائی بھائی سے جدا کر دیا ہے اور ہر روز کا فتنہ برپا ہے لوگ آرام میں اپنی زندگی بسر کر رہے تھے ناحق ان کو چھیڑ دیا ہے ان کا اسی بنا پر یہ خیال تھا کہ یہ ضرور مفسد ہے۔ایک فتنہ لعنت ہوتا ہے اور ایک فتنہ رحمت ہوتا ہے کوئی نبی نہیں آیا جس نے فتنہ نہیں ڈالا ہمیشہ نوبت جدائی اور فساد کی پہنچتی رہی۔پھر آخر انہی میں سے جو نیک تھے اﷲ تعالیٰ ان کو لے آتا رہا۔دنیا میں ہمارے اسی سلسلہ کے متعلق گھر گھر شور ہے بعض آدمی رافضیوں سے بڑھ گئے ہیں لعنت کی تسبیح رات دن پھیرتے ہیں اور انہی مخالفوں میں سے بعض ایسے نکلے ہیں کہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں ہم تو اﷲ تعالیٰ سے شرمندہ ہیں ہماری طرف سے کوشش ہی کیا ہوئی ہے آسمان پر ایک جوش ہے وہی کشاں کشاں لوگوں کو لا رہا ہے۔عیسائیوں کامذہب پھر اس کے بعد نظم ایک شخص سناتے رہے ایک مقام پر عیسائیوں کے ذکر پر حضرتؑنے فرمایا کہ یہ لوگ اتنا فلسفہ اور ہیئت پڑھ کر ڈوبے ہوئے ہیں چوڑھوں کا بھی کچھ مذہب ہوتا ہے کہ کچھ بات پیش کرتے ہیں مگر یہ تو بالکل ہی ڈوبے ہوئے ہیں۔خواب میں گالیاں دینے کی تعبیر پھر ایک صاحب نے ایک خواب سنایا کہ ایک شخص اسے گالیاں دے رہا ہے۔حضرتؑنے تعبیر دی کہ جو شخص خواب میں گالی دینے والا ہوتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جس کوگالی دی جاتی ہے وہ غالب ہوتا ہے۔۱ ۱۱؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ دینی کاموں کے لئے دن رات ایک کر دو ظہر کے وقت حضرت تشریف لائے۔احباب کو فرمایا کہ یہ وقت بھی ایک قسم کے جہاد کا ہے میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو