ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 348

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۸ جلد سوم ایک ان کو ولد اللہ نا کہہ کر ۔ دوسرا مصلوب کرنے کے لحاظ سے ۔ جب خدا تعالیٰ نے ان کے ولد الرنا ہونے کا ذب کیا ہے تو چاہیے تھا کہ ان کے مصلوب ہونے کا بھی ذب کرتا۔ جسم کے ساتھ آسمان پر جانا تو ایک الگ تھلگ امر ہے۔ اوّل ذب دلالت کرتا ہے کہ دوسرا بھی ذب ہو ۔ اولاد الشيطان پھر یہ بات بیان ہوئی کہ اہلِ شیعہ کا یہ اعتقاد ہے کہ ولد الزنا کی تو بہ ہرگز قبول نہیں ہوتی اگر چہ وہ حسین اور بارہ اماموں کی بھی محبت رکھتا ہو۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ توریت میں بھی ایسے ہی لکھا ہے اور اسی لئے وہ مسیح کو ملعون کہتے تھے اس بات کی اصل قرآن شریف میں بھی ہے کہ خدا نے اس میں تخصیص کی ہے۔ ایک اولاد الرحمان اور ایک اولا دالشیطان۔ کیونکہ جب شیطان نطفہ میں شریک ہو گیا تو پھر اس کے قومی میں یہ بات بطور جزو کے آگئی۔ ایک مقام پر ہے بَعدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ (القلم : (۱۴) یعنی یہ ولد الزنا ہے اور تجربہ بتلاتا ہے کہ ولد الز ناشرارت سے باز نہیں آیا کرتے۔ پھر رسالہ میں مَا قَتَلُوهُ (النساء : ۱۵۸) کے لفظ پر حضرت اقدس کو یہ تحریک ہوئی کہ وَمَا قَتَلُوهُ مَا قَتَلُوهُ پر سوال ہوتا ہے کہ یہود کیوں قتل کرتے تھے ان کی کیا غرض تھی جس کے جواب میں خدا نے فرمایا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) یعنی قتلنا سے ان کی مراد لَعَنا تھی۔ اہل عرب میں چونکہ ایک ہزار سے آگے شمار نہیں ہے حضرت اقدس نے اس پر ایک لطیف نکتہ فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میلان دنیا کی طرف نہ تھا اور نہ دوسری دنیا دار قوموں کی طرح لاکھوں کروڑوں تک گنتی وہ بھی رکھتے ۔ او پھر وہ رسالہ سن کر حضرت اقدس نے تعریف کی کہ عمدہ لکھا ہے اور معقول جواب دیتے ہیں ۔ کے ل البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۱، ۲۲