ملفوظات (جلد 3) — Page 348
لوگ نہ لیں گے تو اگر انکار کرتے ہیں تو اپنے ہاتھ سے اسے پوراکرتے ہیں۔مذہبی گفتگوکاطریق فرمایا۔گفتگوئیں ایسے مقامات پر ہونی چاہئیںجہاں رؤساء بھی جلسہ میں ہوں اور تہذیب اورنر م زبانی سے ہر ایک بات کریں کیونکہ دشمن جب جانتاہے ہے کہ محاصرہ میں آگیا تو وہ گالی اوردرشت زبانی سے پیچھاچھڑاناچاہتاہے طالبِ حق بن کر ہر ایک بات کرنی چاہیے اوریہ اَمر سچ ہے ہمارے حق پر ہونے کی یہ علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (المجادلۃ : ۲۲) اگر ہم حق پر نہیں ہیں تو ہم غالب نہ ہوں گے ہم نے ان کو کئی بار لکھا ہے کہ سب متفق ہوجاویں کوئی عیب نہیں ہے۔ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے ان تمام مولویوں میںسے بہت ایسے ہیں کہ عربی لکھتے ہیں بلکہ اشعار بھی کہتے ہیں مگر ہمارے مقابل پر خدائے تعالیٰ ان کی زبان بندکر دیتاہے اوران کوایسا اَمر پیش آتاہے کہ چپ رہ جاتے ہیں۔پھر مکان قریب آگیا اور حضرت اقدس السلام علیکم کہہ کر تشریف لے گئے۔(بوقتِ ظہر) پھر انہیں امور کا ذکر ہوتا رہا جو کہ سیر میں بیان ہوئے اور فرمایا کہ خدا کے فضل کی ضرورت ہے سر میں درد ہے۔ریزش بھی ہے ایسا نہ ہو کہ زیادہ ہوجاوے پھر فرمایا کہ نماز پڑھ لی جاوے اور نماز پڑھ کر تشریف لے گئے۔(بوقتِ عصر) اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے حضرت اقدس کو ایک انگریزی مضمون سنایا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حسبِ دستورشہ نشین پر جلوہ گر ہوئے سیدعبداللہ عرب صاحب نے ایک رسالہ ایک شیعہ علی حائری کے ردّ میں زبان عربی میں لکھا تھا اس کانام سبیل الرشاد رکھا تھا وہ حضرت اقدس کوسناتے رہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ