ملفوظات (جلد 3) — Page 340
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۰ جلد سوم رکھے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام فائدہ اٹھاویں کیونکہ خواص کے لئے معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے لئے تو حقائق اور معارف ہی کافی ہیں عوام کو چونکہ یہ معرفت نہیں ہوتی اس لئے ان کے خوش کرنے کو معجزات رکھے گئے ہیں۔ ( بوقت عصر ) اس وقت نماز کے بعد حضرت اقدس نے الحکم مرکزی اخبارات کو محتاط رہنے کی ہدایت اور البدر کے ایڈیٹروں کو بلاکر تاکید کی کہ وہ مضامین کے قلمبند کرنے میں ہمیشہ محتاط رہا کریں ایسا نہ ہو کہ غلطی سے کوئی بات غلط پیرا یہ میں بیان ہو جاوے یا کسی الہام کے الفاظ غلط شائع ہوں تو اس سے معترض لوگ دلیل پکڑیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے مضامین مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو دکھا لیا کریں اس میں آپ کو بھی فائدہ ہے اور تمام لوگ بھی غلطیوں سے بچتے ہیں ۔ حضرت اقدس نے بعد نماز مغرب حسب دستور جلوس فرما کر مباحثہ موضع حد کے حُسن و قبح مباحثہ مد پر تذکرہ کیا کہ یہ مولوی لوگ عوام کے بھڑکانے کے واسطے عجیب عجیب حیلہ گھڑتے ہیں اور حق رسی سے ان کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس پر مولا نا عبد الکریم صاحب اور مولانا حکیم نور الدین صاحب نے اپنے اپنے مباحثات سنائے جن میں مخالفین نے عوام الناس کو اصل مقام بحث سے بالکل الگ تھلگ باتیں سنا کر اس لئے بھڑ کا یا تھا کہ جنگ اور فساد ہو اور عام جہاں مولانا صاحبان کی آبرو پر حملہ کریں۔ حکیم نور الدین صاحب کے واقعات ایک خوارق عادت رنگ رکھتے تھے کہ عین مباحثہ کے اوقات میں انہوں نے مخالفت عام دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایسے اسباب اسی وقت پیدا ہو گے ہو گئے کہ جماعت مخالف کو نیچا دیکھنا پڑا۔ یہ تمام اذکار اور نظائر اس لئے سنائے گئے تھے کہ ہمارے بھائی ہمیشہ مباحثہ میں اس امر کا خیال رکھیں کہ لوگوں کے فہم کے مطابق باتیں کریں جو لوگ باریک بین اور نکتہ رس نہیں ہوتے ان کے روبرو بار یک دربار یک حقائق