ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 337

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۷ جلد سوم جاتے ہیں تو توجہ ہوتی ہے اس میں فیضانِ الہی ہوتا ہے اس کا ہم کیا وقت مقرر کر سکتے ہیں کہ کب تک ہو۔ غرضیکہ حضرت اقدس نے اس بات کو بالکل نا پسند فرمایا کہ وقت میں کیوں تنگی اختیار کی گئی۔ پھر عبداللہ صاحب کشمیری نے وہ تمام تحریریں پڑھ کر سنائیں۔ ہماری جماعت کی طرف سے مذکورہ بالا دو اصحاب تھے اور فریق مخالف کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب تھے۔ مباحثہ اس طریق سے ہوا تھا کہ مصدق فریق نے وفات مسیح ، نزول مسیح اور حضرت اقدس کے مسیح موعود ہونے کے دلائل اپنے ذمہ لیے تھے اور مکذب فریق نے اس کی تکذیب کے دلائل اپنے ذمہ لئے تھے ہر ایک فریق ہر ایک امر پر بیس بیس منٹ تک لکھتا تھا اور سنا دیتا تھا پھر ایک دوسرے کا دونوں جواب الجواب لکھتے تھے۔ بہر حال فریق مکذب نے اس مباحثہ میں قرآن کی طرف مطلق رجوع نہ کیا اور مصدق فریق نے جو جو معیار صداقت قرآن کریم سے پیش کیے تھے ان کا اس سے کوئی جواب بن نہ آیا۔ چنانچہ پریزیڈنٹ جلسہ نے اٹھ کر علانیہ بیان کر دیا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب سے کوئی بن نہیں آیا۔ اس کی روئیداد سننے پر حضرت اقدس پھر انہیں امور کا بار بار اعادہ فرماتے رہے جو کہ سیر میں مناظرہ اور مباحثہ کے متعلق فرماتے تھے تا کہ سامعین کے ذہن نشین وہ باتیں ہو جاویں۔ اے ۲ نومبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبه (بوقت سیر ) حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور مد کے حالات مباحثہ پر تبصرہ آتے ہی پھر اس مناظرہ پر حضور نے گفتگو شروع کی جس کی کارروائی گذشتہ شب کو درج کی جا چکی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آج کل ان مولویوں کا دستور ہے کہ چالیس پچاس جھوٹ ایک دفعہ ہی بیان کر دیتے ہیں اب ان کا فیصلہ تین چار منٹ میں دوسرا فریق کس طرح کرے پادریوں کا بھی یہی طریق ہے کہ ایک دم اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں ایسے وقت میں یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ ایک اعتراض چن لیوے البدر جلد ا نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۸، ۱۹