ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 335

مومن کو اﷲ رُسوائی کی موت نہیں دیتا پھر میاںفتح دین صاحب نے کہا کہ ہم لوگ بڑے خطاکار ہیں کئی فاسد خیال آتے رہتے اور طاعون کا زور ہو رہا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔میں یہ یقیناً جانتا ہوں کہ جس کو دل سے خدا سے تعلق ہے اسے وہ رُسوائی کی موت نہیں دیتا۔ایک بزرگ کا قصہ کتب میں لکھا ہے کہ ان کی بڑی دعا تھی کہ وہ طوس کے مقام میں فوت ہوں ایک کشف میں بھی انہوں نے دیکھا کہ میں طوس میں ہی مَروں گا پھر وہ کسی دوسرے مقام میں سخت بیمار ہوئے اور زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اپنے شاگردوں کو وصیت کی کہ اگر میں مَر گیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔انہوں نے وجہ پوچھی تو بتلایا کہ میری بڑی دعا تھی کہ میںطوس میں مَروں مگر اب پتہ لگتا ہے کہ وہ قبول نہیں ہوئی اس لئے میں مسلمانوں کو دھوکا نہیں دینا چاہتااس کے بعد وہ رفتہ رفتہ اچھے ہو گئے اور پھر طوس گئے وہاں بیمار ہو کر مَرے اور وہیں دفن ہوئے۔اس لئے مومن بننا چاہیے مومن ہو تو خدا رُسوائی کی موت نہیں دیتا اور دل کے خیالات پر مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ انسان عزم نہ کر لے ایک چور اگر بازار میں جاتا ہوا ایک صراف کی دوکان پر روپوں کا ڈھیر دیکھے اور اسے خیال آوے کاش کہ میرے پاس بھی اس قدر روپیہ ہو اور پھر اسے چُرانے کا ارادہ کرے مگر قلب اسے لعنت کرے اور وہ باز رہے تو گنہگار نہ ہوگا اور اگر پختہ ارادہ کرلے کہ اگر موقع ملا تو ضرور چُرالوں گا تو گنہگار ہو گا آدم ؑ کے قصہ میں بھی خدا فرماتا ہے وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ : ۱۱۶) یعنی ہم نے اس کی عزیمت نہیں پائی عَصٰۤى اٰدَمُ (طٰہٰ : ۱۲۲) کے معنے ہیں کہ صورت عصیان کی ہے مثلاً آقا ایک غلام کو کہے کہ فلاں رستہ جا کر فلاں کام کر آئو تو وہ اگر اجتہاد کرے اور دوسرے راہ سے جاوے تو عصیان تو ضرور ہے لیکن وہ نافرمان نہ ہوگا صرف اجتہادی غلطی ہوگی جس پر مواخذہ نہیں۔خرگوش حلال ہے پھر کسی نے خرگوش کے حلال ہونے پر حضرت اقدس سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اصل اشیاء میں حلّت ہے حُرمت جب تک نصِّ قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی۔