ملفوظات (جلد 3) — Page 334
زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔پھر آپؐفوت ہو گئے اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرتؐفرما جاتے کہ میں نے احادیث جمع نہیں کیں فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا تم ان کو ماننا۔سنّت اور حدیث قرآن کا نام فرقان رکھا ہے یعنی فیصلہ کرنے والا ہے۔لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ اب اس کا نام فرقان نہیں۔اوّل قرآن مقدم رکھا جاوے۔دوسری سنّت۔سنّت یہ ہے کہ قرآن میں جو احکام آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کر کے ان کو دکھلا دیا جیسے نماز پڑھ کر بتلادی کہ صبح کی یوں ہوتی ہے شام کی یوں۔جیسے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف سے استنباط کئے ویسے ویسے آپ بتلاتے رہے اور جو آپ کے اقوال تھے ان کا نام حدیث ہے ایک سنّت یہ بھی تھی کہ آپ فوت ہو گئے قرآن شریف میں تھا کہ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( اٰل عـمران : ۱۴۵)۔یعنی سب مَرگئے وہ بھی مَرے گا خدا کی بات پوری ہوگئی کہ آپ مَر گئے۔۱ نزولِ مسیحؑ ہمارے ہاتھ میں تو ایک نظیر ہے اگر یہ پوچھیں کہ جو تاویل (نزولِ مسیح کی) تم پیش کرتے ہو کسی نے آگے بھی کی ہے تو ہم جواب دیتے ہیں کہ جس کے بارے میں تم کو مصیبت پڑی ہے (یعنی مسیحؑ ) اس نے خود یہ تاویل کی ہے اس کو بھی اس وقت مصیبت پڑی تھی تو ہماری جماعت میں داخل ہو کر آخر اس کی رہائی ہوئی۔نظیر بھی کوئی شَے ہوتی ہے خدا تعالیٰ بھی اپنی سنّت بطور نظیر۲ کے پیش کیا کرتا ہے اگر آنحضرتؐدوبارہ آجاتے تو کوئی حرج نہ تھا آپ نے کوئی خدائی کا دعویٰ تو نہیں کیا نہ آپ خدا بنائے گئے مگر خدا نے مسیح کے منہ سے نکلوا کر اقرار کرالیا کہ دوبارہ آنے کے یہ معنے ہوتے ہیں۔کوئی بادشاہ وہ طریق اختیار نہیں کرتا جس سے اس کی بادشاہی میں خلل آوے پس خدا کیوں ایسا طریق اختیار کرے جس سے اس کی خدائی میں بٹہ لگے۔