ملفوظات (جلد 3) — Page 332
اگر ان کا حدیث پر اس قدر اعتبار ہے تو رفع یدین کی جو چار ۴۰۰سو احادیث آئی ہیں اس پر کیوں نہیں عمل کرتے۔ہمارا مسئلہ خدا کی سنّتِ قدیمہ کے موافق ہے جیسے یہ آمد کے منتظر ہیں ویسے ہی یہودی الیاس کے منتظر تھے۔پیغمبر کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کا علم اتنا وسیع ہو جیسے خدا کا ہے۔یہ پیغمبر پر جائز ہے کہ بعض امور کی تفصیل اس پر نہ کھل سکے۔جیسے کہ بہت سے آخرت کے امور ہیں کہ انسان کو مَرنے کے بعد معلوم ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگ اپنے علم پر کیوں اس قدر باتیں کرتے ہیں یہودیوں کو الیاس کی انتظار تھی مسیح نے کہا کہ یحییٰ الیاس ہے خواہ قبول کرو خواہ نہ، پھر اسی وقت جا کر یحییٰ سے دریافت کیا اور دریافت بھی ایسے الفاظ سے کیا ہو کہ اسے یہی جواب دینا پڑے کہ میں وہ الیاس نہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ یہ بار بار احادیث پیش کرتے ہیں اور ان میں سے نزول کو لیتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اسی مسیح نے آنا تھا تو پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے کا حُلیہ کیوں الگ بتلایا اور کہا کہ آنے والے مسیح کو تم اس طرح پہچانو۔اس کی کیا ضرورت تھی؟ مباحثہ میں بھی اصول رکھا جاوے کہ قرآن شریف مقدم ہے یہ منواکر ان سے کہا جاوے تقدم قرآن تو اب مقبولہ فریقین ہے باقی امور اسی سے فیصلہ کر لو۔اگر حدیثوں پر سارا مدار ہے تو قرآن کی کیا ضرورت ہے جو کہتا ہے اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ جھوٹے دھوکے ہیں۔اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (الزّخرف : ۶۲)کے یہ معنے ہیں کہ یہودیوں کے ادبار اور ذلّت کی نشانی مسیح کے آنے کا وقت تھا اور جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ (الزّخرف : ۶۰) بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ساعت کے معنے آخرت کے بھی ہیں۔اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ (النِّسآء : ۱۶۰) کے یہ معنے کرتے ہیں کہ وہ اب تک زندہ موجود ہے جب آویں گے تو کُل اہلِ کتاب ایمان لاویں گے اس کے متعلق ابی ہریرہ کی حدیث پیش کرتے ہیں حالانکہ تفسیر مظہری میں اس کے اوپر کس قدر مطاعن ہیں۔یہ کہنا کہ کُل لوگ اس وقت ایمان لاویں گے غلط ہے۔قرآن سے ثابت ہے کہ قیامت تک کافر رہیں گے قرآن کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے قرآن کے نصوصِ قطعیہ بالکل فیصلہ کر دیتے ہیں۔