ملفوظات (جلد 3) — Page 326
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۶ جلد سوم دوم - قبول حق کے لئے جرات رکھتا ہو۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حق کو سمجھ تو لیتے ہیں مگر برادری کے تعلقات نہیں ٹوٹتے ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں یہ بزدلی بھی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ پہلے پہل جو بچہ مدرسہ میں بھیجا جاتا ہے اس کے سامنے تو ابجد ہی پیش کی جاتی ہے۔ کوئی بڑی کتاب نہیں رکھی جاتی ۔ اسی طرح مذہب کی پرکھ میں پہلے نسبتاً موٹے موٹے اصولوں میں مقابلہ کر کے دیکھ لینا چاہیے کہ مذہب حق کون سا ہے؟ مجھے تعجب آتا ہے کہ اس و ہ اس وقت مذاہب کا مقابلہ ہو رہا ہے اور امر حق صاف طور پر معلوم ہو سکتا ہے اور اس ہند ہی میں سب مذاہب موجود ہیں ۔ سناتن ، عیسائی، آریہ، مسلمان وغیرہ بڑے بڑے یہی مذہب ہیں ۔ مذہب کی پہلی جزو اور جڑ خدا شناسی ہے جس کا پہلا قدم ہی مذہب کی جڑ خدا شناسی ہے غلط اور بے ٹھکانے ہے دوسرا قدم اس کا کب ٹھکانہ پر پڑے گا ۔ اب اس اصل پر مذاہب کی شناخت کرلو۔ گا۔ پر پر سناتن دھرم کو لو انہوں نے کوئی جڑی بوٹی پتھر درخت چاند سورج غرض مخلوق میں سناتن دھرم کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی پرستش نہیں کی اور جس کو خدا نہیں بنایا۔ اب جس مذہب کا خدا شناسی کے متعلق یہ عقیدہ ہو اس کو علوم حقہ سے کب حصہ مل سکتا ہے؟ اس کی اخلاقی حالتیں کیوں کر درست ہو سکتی ہیں ؟ وہ تو ریل کو بھی دیکھیں تو اسے بھی سجدہ کرنے کو تیار ہیں اور اسے خدا ا۔ ماننے لگتے ہیں ۔ پھر ان لوگوں میں سے ایک اور فرقہ ہے جو اپنے آپ کو اصلاح یافتہ فرقہ سمجھتا ہے آریہ دھرم اور اس کو آریہ کہتے ہیں ۔ - آریہ کی خدا شناسی کا یہ حال ہے کہ انہوں نے برخلاف وید کے خدا کی توحید کا زبانی اقرار تو کیا ہے گو دید میں اگنی وایو وغیرہ کی پرستش کی گئی ہے لیکن یہ لوگ اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم بتوں کی پوجا نہیں کرتے مگر خداشناسی میں باوجود اس اقرار کے سخت ٹھو کر کھائی ہے اور وہ یہ کہ وہ خدا کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے اور اس کو صرف جوڑ نے جاڑنے والا مانتے ہیں جب خدا کی اس عظیم الشان