ملفوظات (جلد 3) — Page 324
کہتے ہیں کہ ابن آدم کو سَر رکھنے کو جگہ نہیں۔آنحضرتؐکی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کر دیا کرتے تھے ایک بار آپ کے گھر میں ایک مہر تھی آپؐنے اس کو لے کر تقسیم کر دیا۔مسیحؑکا شوقِ جہاد پادری جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں پر اعتراض کرتے ہیں اپنے گھر میں نگاہ نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیاں بالکل دفاعی تھیں۔مگر مسیح کو اس قدر شوق تھا کہ اس نے شاگردوں کو کہا کہ کپڑے بیچ کر بھی ہتھیار خریدو۔اصل میں مسیح کا لڑائیاں نہ کرنا ’’ستر بی بی از بے چادری ‘‘ کامصداق ہے اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ہرگز تامل نہ کرتے بلکہ اس قسم کی تعلیم سے جو انہوں نے ہتھیاروںکے خریدنے کی دی صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کس قدر شوق تھااور داؤد کے تخت کی وراثت کاخیال لگا ہواتھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو آپ نے ان مخالفوں سے جنہوں نے سخت ایذائیں دی ہوئی تھیں اور جو اَب واجب القتل ٹھہر چکے تھے پوچھا تمہارا میری نسبت کیا خیال ہے انہوں نے کہا کہ تو کریم اِبنِ کریم ہے توآپ نے فرمایا۔اچھا میں نے تم سب کو بخش دیا آپ کے اس رحم اور کرم نے ان پر ایسا اثر کیا کہ وہ سب مسلمان ہوگئے۔حضرت مسیح کو اپنے ایسے اخلاق کے اظہار کاموقع ہی نصیب نہیں ہوا۔اور حواریوں کے لئے تو مسیح کا آنا ایک قسم کاابتلا تھاکیونکہ ان کو کو ئی فائدہ نہ ہوا اور انہوںنے کچھ نہ سیکھا۔مسیح ناصری او رمسیح محمدی فرمایا۔جو کامیابی اور اثر مسیح ابن مریم کا ہوا وہ توصاف ظاہر ہے اور جس کمزوری اور ناکامی کے ساتھ انہوں نے زندگی بسر کی وہ انجیل کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتی ہے مگر مسیح موعود جیسے اپنے زبردست اور قوتِ قدسیہ کے کامل اثر والے متبوع کاپیرو ہے اسی طرح پر اس کی عظمت اور بزرگی کی شان اس سے بڑھی ہوئی ہے جو کامیابیاں اور نصرتیں اس جگہ خدا نے ظاہر کی ہیں مسیح کی زندگی میں ان کا نشان نہیں نہ معجزات میں نہ پیشگوئیوں میں نہ تعلیم میں۔غرض جیسے