ملفوظات (جلد 3) — Page 25
اور بہت سے امور ہیں جو ایک دائرہ کے اندر محدود ہیں۔بعض کے اولاد نہیں ہوتی۔بعض کے لڑکے یا لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔غرض یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے قدیر ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔پس ہمارا مذہب یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت اور ربوبیت ذرّہ ذرّہ پر محیط ہے اگر چہ احادیث میں آیا ہے کہ بدی شیطان یا نفس کی طرف سے ہوتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ وہ بدی جس کو بدی سمجھا جاوے مگر بعض بدیاں ایسی ہیں کہ اُن کے اسرار اور حِکم اور مفہوم سے ہم آگاہ نہیں ہیں جیسے مثلاً آدم کا دانہ کھانا۔غرض ہزار ہا اسرار ہیں جو مستحدثات کا رنگ دکھانے کے لیے کر رکھے ہیں۔قرآن شریف میں ہے مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ (اٰلِ عـمران : ۱۴۶) تَمُوْتَ میں روحانی اور جسمانی دونوں باتیں رکھی ہوئی ہیں۔ایسے ہی ہدایت اور ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہیں۔اس پر اعتراض یہ ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ لغو ہو جاتا ہے؟ ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کوئی ایسی فہرست پیش کرو جس میں لکھا ہو کہ فلاں شقی ہے۔انبیاء علیہم السلام جب دعوت کرتے تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی اثر مترتّب ہوتا ہے اور ایسا ہی دعا کے ساتھ بھی۔اﷲ تعالیٰ قضا و قدر کو بدل دیتا ہے اور قبل ازوقت اس تبدیلی کی اطلاع بھی دے دیتا ہے۔اس وقت ہی دیکھو کہ جو رجوع لوگوں کا اس سلسلہ کی طرف اب ہے براہین احمدیہ کے زمانہ میں کب تھا۔اس وقت کوئی جانتا بھی نہ تھا۔میں نے خود عیسائیوں کی کتابیں پڑھی ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایک طُرفۃ العین کے لیے بھی عیسائی مذہب کی سچائی کا خیال میرے دل میں نہیں گذرا۔وہ قرآن شریف کی اس تعلیم پر کہ خدا کے ہاتھ میں ضلالت اور ہدایت ہے اعتراض کرتے ہیں لیکن اپنی کتابوں کو نہیں پڑھتے جن میں لکھا ہے کہ شریر جہنم کے لیے بنائے گئے ہیں۔یا مثلاً یہ لکھا ہے کہ فرعون کا دل سخت ہونے دیا۔اگر لفظوں پر ہی اعتراض کرنا ہو تو عیسائی ہمیں بتائیں اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ بد دیانت آدمی سے تو مَرے ہوئے کتّے سے بھی زیادہ بدبو آتی ہے۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ان پادریوں کا اسلام پر ایسا اعتراض نہیں ہے جو توریت اور انجیل کے ورق ورق پر صاف صاف