ملفوظات (جلد 3) — Page 24
پیدا ہوتا ہے اور اس پر ایک ٹھوکر لگتی ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ تمثیلی طور پر بعض افرادکو اُن کے عیوب اُن پر ظاہر کر دیتا ہے اور کبھی اس فعل کا علم مامور اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے انسان دونوں کو ہوتا ہے اور کبھی ایک ہی کو۔(ہم اس عقدہ کو حل کرنے کے لیے ذرا مثال کے طور پر سمجھا دیتے ہیں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے بلکہ قریباً ہر ایک شخص پر اس قسم کے واقعات گذرے ہوں گے کہ جب کبھی وہ کسی گناہ کی حالت میں گرفتار ہونے کو ہوا ہے تو رؤیا میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُس نے زیارت کی اور اس گناہ کی حالت سے بچ گیا۔اس قسم کے تمثّلات وہ ہوتے ہیں جن میں اﷲ تعالیٰ مامور کا رسول ہو کر اپنا فیض پہنچاتا ہے۔ایڈیٹر)۱ بلاتاریخ ۱۹۰۲ء قضا اور دعا قدر اور جبر پر بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں مگر تعجب کی بات ہے کہ لوگ اس پر کیوں بحث کرتے ہیں۔میرا مذہب یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد ہی اس قسم کی بحثوں کی بنیاد پڑی ہے ورنہ انسانیت یہ چاہتی تھی کہ ان پر توجہ نہ کی جاوے۔جب روحانیت کم ہو گئی تو اس قسم کی بحثوں کا بھی آغاز ہو گیا۔جس شخص کا یہ ایمان نہ ہو کہ اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یٰسٓ : ۸۳) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اُس نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا اور ایسا ہی اس شخص نے بھی شناخت نہیں کیا جو اس کو عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ اور حَیُّ و قَیُّوْمُ کہ دوسروں کی حیات و قیام اسی سے ہے اور وہ مدبّر بالارادہ ہے مدبّر بالطبع نہیں مانتا جو فلاسفروں کا عقیدہ ہے۔غرض ہم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔یہ بات قریب بہ کفر ہو جاتی ہے اگر یہ تسلیم کریں کہ کوئی حرکت یا سکون یا ظلمت یا نور بِدوں خدا کے ارادے کے ہو جاتا ہے اس پر ثبوت اوّل قانونِ قدرت ہے۔انسان کو اﷲ تعالیٰ نے دو آنکھیں، دو کان ایک ناک دیئے ہیں۔اتنے ہی اعضا لے کر بچہ پیدا ہوتا ہے۔پھر اسی طرح عمر ہے