ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 300

ملفوظات حضرت مسیح موعود رض جلد سوم اس طرح آزمائش کرو کہ خدا اور رسول کی راہ میں کس نے صحابہ کا مقام اور شیعوں پر حجت صدق دکھلایا۔ آپس کی رنجشیں خانگی امور ہوتے ہیں ان کا اثر ان پر نہیں پڑ سکتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ تَقْبِلِينَ (الحجر: ۴۸) یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں رنجشیں ہوں گی لیکن غل ان کے سینوں میں سے کھینچ لیویں گے وہ بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے۔ اب شیعوں سے پوچھو کہ اس وقت زمانہ نبوی میں تو کوئی رنجش نہ تھی اور اگر ہوتی تو آنحضرت اس وقت آپس میں صلح کروا دیتے ۔ آخر یہ بات آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھی ورنہ اس طرح پھر آنحضرت پر حرف آتا ہے کہ انہوں نے صلح کی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہوئے ۔ یہ بات شیعہ پر بڑی دلیل ہے وہ صرف دو آدمیوں کا نام لیتے ہیں جو کہ آنحضرت کے بعد ہوئے۔ ہم کہتے ہیں کہ آیت تو پیغمبر خدا پر اتری تھی نہ علی پر اور نہ کسی اور پر ۔ اگر کہو کہ اس وقت ہی غل تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ صحابہ ایسے سخت دل تھے کہ آنحضرت نے بار بار کہا اور سمجھا یا مگر کسی نے آپ کا کہنا نہ مانا۔ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے یہ تو بڑی بے ادبی ہے۔ اس کا پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی خبر ہے مگر خدا کے سامنے یہ کوئی تھے نہیں اسی لئے فرماتا ہے کہ تم اس پر خیال نہ کرو یہ بشریت کے اختلاف ہیں ہم ان کو بھائی بھائی بنادیویں گے خدا تعالیٰ ہی نے یہ پیشگوئی کی کہ ایسا ہو گا بعض آپس میں لڑیں گے۔ پھر سب سے آخر جولوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے نیز فرمایا وہ وہی گروہ تھے کہ جنہوں نے آپ کی صحبت نہ پائی مگر آپ کو دیکھ لیا۔ ایسے لوگ تیسرے طبقہ میں ہیں اور بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے تھے ان کی نسبت ہے کہ آپ (بروز قیامت ) خدا تعالیٰ کو کہیں گے کہ یہ تو ایمان لائے تھے ۔ خدا تعالیٰ کہے گا مَا تَدْرِی یعنی تجھ کو علم نہیں کیونکہ وہ لوگ آپ کی صحبت میں بہت قلیل رہے تھے اور وہی تھے جو پیچھے بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے اور زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے قتل ہوئے تھے۔ اہلِ اسلام خود اس قسم کے مرتد مانتے ہیں جو صحابہ کہلاتے تھے۔ مگر یہ تو قرآن ہے جو بتلاتا ہے جو آپس میں موحدین ہوں گے ان میں بھی تفرقہ ہوگا۔ ایک وہ موحد تھے