ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 296

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۶ ۲۲ اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز چهارشنبه ( بوقت سیر ) جلد سوم فرمایا کہ حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور مشرقی جانب آپ نے چلنے کا حکم دیا اس طرف جنگل ہے ادھر ہی چلئے ۔ جلد جنگل میں نکل جاتے ہیں ۔ نزول المسیح کے کے متعلق مفتی محمد صادق صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ انبیاء کی پیشگوئیوں کا امتیاز فرمایا پیشگوئی کا جس قدر تکرار ہو گا وہ ایک نیا نشان ہوگا۔ خدا کا عمیق علم اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن باتوں کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ ان کی قبل از وقت خبر دیتا ہے اس کا علم غیبوبیت سے پتہ لگتا ہے کیونکہ طاقتوں اور قدرتوں کے ساتھ بھرا ہوا ہوتا ہے اس علم میں غیب بھی ہوتا ہے اور طاقت بھی۔ نجومی جھوٹا ہوتا ہے اس کے ساتھ طاقت نہیں ہوتی ۔ انبیاء کی خبروں میں طاقت بھی ہوتی ہے جیسے دشمن کا ادبار اور اپنا اقبال، دشمن کو شکست اور اپنی فتح ۔ جو اسے نجومی کے ساتھ ملاتے ہیں وہ دھوکا کھاتے ہیں کیونکہ اس میں صراحت ہوتی ہے کہ وہ (نبی) ایسا وجود ہے کہ دشمن کو پامال کرنا چاہتا ہے یہ چھیڑ چھاڑ جو عیسائیوں ( کے اعتراضوں) کی ہوئی ہے آخر کسی حد تک بڑھتی جاوے گی مگر آخر کار فیصلہ ہوگا۔ خدا تو ایک دم میں فیصلہ کر سکتا ہے مگر وہ تماشہ دیکھنا چاہتا ہے زمین میں کشمکش رہتی ہے مگر آخر کار فرشتہ آ کر ہاتھ مارتا ہے تو فیصلہ ہو جاتا ہے۔' پھر ڈوئی کا ذکر ہوا کہ اسے اس ماہ کے آخر میں ہمارا رسالہ مل جاوے گا کا ہوا کہ ماہ میں ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی فرمایا کہ معلوم نہیں کہ ذکر کرے (اخبار میں ) یا چپ رہے۔ اس کے چپ رہنے سے معلوم ہوگا کہ یہ لے الحکم میں یوں مذکور ہے۔ فرمایا۔ عیسائیوں کی چھیڑ چھاڑ مذہبی رنگ میں بہت بڑھ گئی ہے اور قرآن شریف سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتنہ بہت بڑھے گا آخر خدا تعالیٰ مقابلہ کرے گا اور دکھا دے گا کہ آخری فتح توحید ہی کی ہے۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۴)