ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 295

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جنگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں پر فرمایا کہ وہ تو جائز طور پر جن کو مارنا تھا مار چکے مگر ان لوگوں (عیسائیوں) نے لاکھوں خون نا جائز طور پر کئے (عیسائی مذہبی جنگوں سے پتہ لگتا ہے کہ کس قدر خون ناحق ہوئے ہیں۔)۱ اسلامی جنگیں بالکل دفاعی لڑائیاں تھیں جب کفار کی تکالیف اور شرارتیں حد سے گذر گئیں تو خدا نے ان کے سزا دینے کے لئے یہ حکم دیا مگر عیسائیوں نے جو مختلف اوقات میں مذہب کے نام سے لڑائیاں کی ہیں ان کے پاس خدا تعالیٰ کی کونسی دستاویز اور حکم تھا جس کے رو سے وہ لڑے تھے۔ان کو تو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کا حکم تھا۔۲ عُسر اور یُسر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلقِ عظیم انسان کا خُلق اس کی فتح اور کامیابی کے متعلق ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ صبر و غیرہ اَخلاقِ فاضلہ مصیبت اور بلا کے وقت دکھلاتا ہے وہی فتح اور اقبال کے وقت دکھلاوے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں قسم کے وقتوں پر اخلاق دکھلانے کاموقع ملا جو خُلقِ عظیم تنگی اور بلا کے وقت آپ مکہ میں دکھلاتے تھے وہی آپ نے بادشاہ ہو کر دکھلایا۔حضرت مسیحؑ کا کوئی اخلاقی شعبہ خلق کا دکھلائو وہ اس سے بالکل فارغ ہیں بلا ثبوت توجوگی بھی مدّعی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے نفس کو مارا ہوا ہے۔ستر بی بی ازبے چادری! مسیح نے تو امام حسین علیہ السلام جتنا حوصلہ بھی نہ دکھلایا کیونکہ ان کو مفرّ کی گنجائش تھی اگر چاہتے تو جاسکتے تھے مگر جگہ سے نہ ہلے اور سینہ سپر ہو کر جان دی اور مسیح کو تو مفرّ ہی کوئی نہ تھا یہودیوں کی قید میں تھے حوصلہ کیا دکھلاتے۔۳