ملفوظات (جلد 3) — Page 281
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۱ جلد سوم فرمایا کہ سنیوں کو تو ایک کر لیا اب ان کو چاہیے کہ خارجیوں کو بھی ایک کرے۔ ان کا بھی حق ہے پھر کبھی مل کر علی اور عثمان کو گالیاں دے لیا کریں اور کبھی وہ ابوبکر وعمر کو دے لیا کریں۔ ہمیں خدا نے اس لئے مامور کیا ہے کہ جو حد سے زیادہ شانیں ( خدا کی مخلوق کی ) بنائی ہوئی ہیں ان کو دور کریں اس کے حصہ دارستی بھی ہیں ان میں بھی شرک بہت پھیلا ہوا ہے۔ پھر حضرت نے آج کے الہامات سنائے کہ تازہ الہامات آج یہ الہام ہوئے میریدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُوْرَكَ - يُرِيدُونَ أَنْ يَتَخَطَّفُوا عِرْضَكَ - إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ “ فرمایا که خدا تعالیٰ ہمیں اکیلا ، کمزور، ضعیف پاکر، ہماری حمایت پر ہی آسمان سے تار آ جاتی ہے۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبه (بوقت سیر ) حسب معمول حضرت اقدس سیر کے لئے نکلے اور طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ اس موسم میں آج کل عموماً گلٹیاں بغل وغیرہ میں نکلا کرتی ہیں مگر جب تک ان کے ساتھ کوئی کل عموماً میں نکلا زہریلا مادہ نہ ہو تب تک طاعون نہیں کہلاتی ۔ ایک شخص کے چار سوال دہلی سے آئے تھے جو کہ عیسائیوں کے چار سوالوں کا جواب عیسائیوں کی طرف سے اس پر ہوئے تھے وہ شیخ یعقوب علی صاحب نے پڑھ کر سنائے۔ اول سوال اس مضمون پر تھا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ اول کلام تھا اور کلام سے کلمتہ اللہ کی حقیقت خدا ہوا اور خدا کی روح سے میچ پیدا ہوا اور قرآن نے بھی اسے کلمہ البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰