ملفوظات (جلد 3) — Page 280
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۰ جلد سوم ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن سے نشہ ایک نشہ کا سائل نہیں ملا اس کی حالت بہت ردی تھی اورنشہ کے لئے مجھ سے پیسے طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے۔اسے عادت ہوگی اور اب اس کی زندگی کا گویا جزو ہو گیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔ اس موقع پر حضرت اقدس نے حکیم نورالدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا اور مجبور ہوتا ہے حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گزرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہر ایک شے کے لئے چالیس دن ہی ہیں بات یہ ہے کہ شراب اور اس کے بھین بھرا ( بھنگ افیون وغیرہ ) ایسی خراب شے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسے اچھا ہو سکتا ہے جس میں ایسی تعلیم ہو۔ ہاں ایک صورت ہے کہ نشہ چھوٹ سکے کہ جیل خانہ میں بند ہوں داروغہ بھی ا داروغہ بھی ایسا ہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید عادت چھوٹ جاوے۔ حکیم صاحب نے پھر ایک واقعہ سنایا کہ جو لوگ جیل خانہ میں ہوتے ہیں تو ان کو نشہ نہیں ملتا اگر کام میں سستی اور انکار کریں تو سخت سزا ملتی ہے تین تین سال تک ۔ پھر وہ نشہ کا نام نہیں لیتے۔ مگر جوں ہی جیل خانہ پھر وہ کا مگر سے باہر نکلے پھر ایک دم بلانشہ رہنا ان کو موت کے برابر ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ بیحی جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی ۔ شائد کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو حرمت تھی نہیں۔ ۱۳ برس کے بعد حرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو آہستہ آہستہ صفائی کرتا جاتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئی تو حکم آگیا۔ ابتدا میں تو صحابہ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی بھی بھولا ہوا ہو گا شراب کا کیا ذکر ہے۔ ماموریت کا مقصد ایک علی حائری نامی شیعہ کے رسالہ کا ذکر ہوا جس میں مصنف نے ہمارے مقابلہ میں اہلِ سنت کو خطاب کیا ہے کہ تم اور ہم ایک ہیں حضرت نے اس پر