ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 280

ایک نشہ کا سائل ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن سے نشہ نہیں ملا اس کی حالت بہت ردّی تھی اورنشہ کے لئے مجھ سے پیسہ طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے۔اسے عادت ہوگی اور اب اس کی زندگی کا گویا جزو ہوگیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔اس موقع پر حضرت اقدس نے حکیم نورالدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا اور مجبور ہوتا ہے حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گذرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتاہے۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔ہر ایک شَے کے لئے چالیس دن ہی ہیں بات یہ ہے کہ شراب اور اس کے بھین بھرا (بھنگ افیون وغیرہ) ایسی خراب شَے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسے اچھا ہو سکتا ہے جس میں ایسی تعلیم ہو۔ہاں ایک صورت ہے کہ نشہ چھوٹ سکے کہ جیل خانہ میں بند ہوں داروغہ بھی ایساہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید عادت چھوٹ جاوے۔حکیم صاحب نے پھر ایک واقعہ سنایا کہ جو لوگ جیل خانہ میں ہوتے ہیں تو ان کو نشہ نہیں ملتا اگر کام میں سُستی اور انکار کریں تو سخت سزا ملتی ہے تین تین سال تک۔پھر وہ نشہ کا نام نہیں لیتے۔مگر جوں ہی جیل خانہ سے باہر نکلے پھر ایک دَم بِلا نشہ رہنا ان کو موت کے برابر ہے۔حضرت نے فرمایا کہ یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔شائد کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو حُرمت تھی نہیں۔۱۳ برس کے بعد حُرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو آہستہ آہستہ صفائی کرتا جاتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئی تو حکم آگیا۔ابتدا میں تو صحابہؓ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی بھی بھولا ہوا ہوگا شراب کا کیا ذکر ہے۔ماموریت کامقصد ایک علی حائری نامی شیعہ کے رسالہ کا ذکر ہوا جس میں مصنّف نے ہمارے مقابلہ میں اہلِ سنّت کو خطاب کیا ہے کہ تم اور ہم ایک ہیں حضرت نے اس پر