ملفوظات (جلد 3) — Page 279
محفوظ رہوں۔۱ مسیح تو خود کنجریوں سے تیل ملواتا رہا۔اگر استغفار کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔(بوقتِ مغرب) پھر اس کے بعد اذان ہو کر نماز مغرب ہوئی اور حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے اور فرمایا کہ الزامی جواب مفتی محمد صادق صاحب جو کتاب سنایا کرتے ہیں جس میں مشیعہ عورت اور مشیع یہودی عاشق سلومی کا ذکر ہے کہ سلومی مشیع کو چھوڑ کر یسوع کے شاگردوں میں جاملی۔اس لئے اس مشیع نے یہ سارا منصوبہ صلیب کا بنایا گویا ایک عورت کے واقعہ نے ان کی صلیب تک نوبت پہنچائی۔جس طرح بدظنیاں ان لوگوں نے نکالی ہیں ویسے ہی ہمارا بھی حق ہے۔ان کے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا گناہ ہے مگر ایک بازاری عورت عطر ملتی ہے تیل بالوںکو لگاتی ہے بالوں میں کنگھی کرتی ہے اور یہ مہنت کی طرح بیٹھے ہوئے مزے سے سب کراتے جاتے ہیں یہ بھی پوچھو کہ گناہ ہے یا نہیں۔ان کو لازم تھا کہ اعتراض نہ کرتے جو واقعات ان کے ہاتھوں کے لکھے ہیں وہی پیش کرنے پڑتے ہیں اور کیا جواب دیویں۔یہ کوئی چھوٹا اعتراض نہیں ہے کہ ان کو کنجریوں سے کیا تعلق تھا اور اگر کہو کہ اس کنجری نے توبہ کی تھی تو کنجری کی توبہ کا اعتبار کیا۔ایک طرف توبہ کرتی ہیں ایک طرف پھر موڑھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں۔پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑھ ہے اس کی تخم ریزی مسیح نے کی۔شراب کے جائز رکھنے سے کروڑہا لوگوں کی گردن پر چُھری پھر گئی جب انسان نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر چھوڑنا مشکل ہے یہ نشہ بھی کیا شَے ہے کہ ایک طرف زندگی کو کھاتا جاتا ہے دوسری طرف زندگی کا شہتیر بھی ہے نشہ والوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔