ملفوظات (جلد 3) — Page 278
فرمایا کہ ہمیں کوئی تکلیف نہیں قرآن کا حکم ہے کہ جب گواہی کے لئے بلایا جاوے تو جائو۔میں کوئی بے دست و پاتو ہوں نہیں۔ہمیشہ پیدل بٹالہ آیا جایا کرتا تھا۔یہ تو کوئی بات نہیں چلنے پھرنے کی عادت ہے مگر یہ ایک منحوس بے حیثیت سا مقدمہ نظر آتا ہے مو من کو اپنی عزّت کا پاس بھی چاہیے۔گندے آدمیوں سے یہ جگہ پُر تھی معلوم نہیں کہ خدا کو کیوں یہ جگہ پسند آئی۔(بوقتِ عصر ) اس وقت نماز سے پیشتر مولوی عبدالکریم صاحب نے اخویم عبدالعزیز صاحب کا خط سنایا جو کہ سہارنپور سے آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ یہاں کے لوگوں میں ایک عجیب ولولہ اور شوق قادیان پہنچنے کا پیدا ہورہا ہے۔(بوقتِ مغرب و عشاء) عصمتِ انبیاء کسی پادری نے عصمتِ انبیاء کے متعلق چند ایک اعتراضات مولوی محمد علی صاحب کے پاس روانہ کئے ہوئے تھے اور نوح کا گنہگار ہونا بھی لکھا تھا کہ اس نے خلافِ منشاءِ ایزدی اپنے بیٹے کے لئے دعا کی یہ اعتراض مولوی ایم۔اے صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش کئے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔کیا وجہ ہے کہ اس نے مسیح کا ذکر نہ کیا کہ ایک انجیر کے درخت کی طرف گیا اور جانتا تھا کہ اس میں پھل نہیں ہے پھر وہ جانتا تھا کہ صلیب ملنی ہے اور دعائیں کرتا رہا کہ مجھے نجات ملے۔پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ثبوت میں قَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا (یونس : ۱۷) کی دلیل پیش کرتے ہیں اس کے مقابلہ کا ایک فقرہ بھی انجیل میں نہیں ہے اور پیغمبرِ خدا کی تمام عمر کا یہ حوالہ ہے کہ قَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا۔استغفار کے اصل معنے تو یہ ہیں کہ یہ خواہش کرنا کہ مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی میں معصوم رہوں اور دوسرے معنے جو اس سے نیچے درجے پر ہیں کہ میرے گناہ کے بدنتائج جو مجھے ملنے ہیں میں ان سے