ملفوظات (جلد 3) — Page 277
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۷ جلد سوم حجرہ نشین لوگوں کو نہ تو آسمانی منطق نصیب ہوتی ہے اور نہ زمینی ۔ مولوی اسمعیل شہید صاحب آئے تو سنگھر بھی گئے اور شیخ سلیمان سے ملے شائد جہاد کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ فقیر نے اپنے ہاتھ سے ایک چڑی بھی نہیں ماری تلوار کیسے اٹھاوے گا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے ۳۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے تھے۔ پھر فرمایا کہ اب تو میں یقین کرتا ہوں کہ وہ ( نذیر حسین ) ہماری جماعت میں داخل ہوا۔ کئی مرتبہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی زندگی میں تو قائل نہ ہوا مگر جب فوت ہو گیا تو ہماری جماعت میں داخل ہوا۔ محمد حسین بٹالوی کے ذکر پر فرمایا کہ محمد حسین بٹالوی کا عقیدہ اس عمارت کے دو کونے میں ایک مہدی اور ایک میچ ۔ مہدی کی نسبت وہ کہہ چکا تھا کہ کوئی حدیث بھی جرح سے خالی نہیں ہے جب ایک کو نہ گر گیا تو دوسرا کس کام کا۔ اس لئے ہمارا انکار کر دیا یہ مسئلہ ایک مرکب شے ہے جیسے ایک پیالہ اگر اس کا ایک ٹکڑا ٹوٹ جاوے تو باقی کس کام کا ۔ اور ایک پہلو سے محمد حسین ہمارے مفید مطلب ہوا کہ مہدی کی تردید کر چکا۔ بوقت ظهر ) حکیم فضل دین صاحب کے مقدمہ پر حضرت اقدس غور فرماتے مقدمہ بازی اچھی نہیں ہوتی تعلیم رہے اور بہت سی باتیں سننے کے بعد حضور نے فرمایا کہ مقدمہ وہ بہت منحوس ہوتا ہے جس کا انجام بخیر نظر نہ آوے اور صاف وہ مقدمہ ہوتا ہے جس کے آثار فتح و نصرت کے جلد نظر آ جاویں مقدمہ بازی اچھی نہیں ہوتی ۔ بار بار حکام کے پاس جانا ، ان کے متھے لگنا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ مردار بصد بگزار صلح کر لو۔ ایک صاحب نے کہا کہ حضور کو بھی قرآن کے حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف نہیں خطابات کے لئے جانے کی تکلیف ہوگئی اس نے اسی لئے آپ کی شہادت لکھائی ہے کہ یہ لوگ تکالیف کو دیکھ کر صلح کر لیں ۔ حضرت اقدس نے