ملفوظات (جلد 3) — Page 276
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۶ جلد سوم آتھم ضال کہ ایک جلدی مر گیا اور ایک آہستہ آہستہ سسکتا ہوا مرا۔ اور آریہ بھی یہود میں داخل ہیں ان کاهون وغیرہ تمام رسوم یهود یہود سے ملتی ہیں ۔ بعض نے لکھا ہے کہ برہمن ، مصر جی اسی ۔ ہیں کہ یہ لوگ مصر سے آئے تھے۔ ایک نفسیاتی نکتہ ایک شخص کی حالت پر حضور نے فرمایا کہ لئے کہلاتے جوش والا آدمی درست ہونے کے لائق بہت ہوتا ہے مگر منافق نہیں ہوتا۔ سرسید احمد خان کی رائے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سرسیداحمد صاحب سے ایک دفعہ جب میری کتابوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ان میں ذرہ خیر نہیں ہے ۔ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی متوفی کے ذکر پر بعض مولوی نذیر حسین دہلوی کا ذکر احباب نے یہ کہا کہ قوم اور برادری کی محبت ہی نے دراصل اسے اخفائے حق کے لئے مجبور کیا ہوا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ محبت دین کی ہی محبت ہوتی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی برادری ، قوم اور رشتہ داریاں تھیں مگر صحابہ کو جب معلوم ہوا کہ یہ لوگ دین کے دشمن ہیں تو اپنے ہاتھوں سے ان کو ہلاک کیا۔ اگر ان میں (نذیرحسین میں ) تقویٰ ہوتی تو ایسے سخت دلی کے لکھے ہوئے خط نہ پہنچتے یہ کہہ دیتے کہ تقویٰ اجازت نہیں دیتا۔ یہ تمام امور کس قدر تقویٰ کے برخلاف ہیں کہ قرآن شریف بین دلائل سے وفات ثابت کرتا ہے جیسے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) اور قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران: ۱۴۵) ۔ پھر خود پیغمبر خدا کا معراج میں ان کو مردوں میں دیکھنا اور پھر تمام فرقہ اسلام کے اور بڑے بڑے صوفی موت کو مانتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کے قائل نہیں ہیں ۔ سب سے پہلا اتفاق اس امر پر ہوا کہ گل انبیاء فوت ہو چکے ہیں صرف قوم اور برادری کو مد نظر رکھ کر ( نذیر حسین نے ) انکار کیا۔ سنا تھا کہ نذیر حسین کہتا تھا کہ مجھے ایک ایسی بات یاد ہے کہ اگر بتلاؤں تو ہزاروں آدمی مرزا صاحب کے مرید ہو جاویں۔ وہ تو ہزاروں داخل کرتا رہا یہاں لاکھوں ہو گئے ۔