ملفوظات (جلد 3) — Page 275
مخالفین سے شفقت پھر اس کے بعد میاں احمد دین صاحب عرائض نویس گوجرانوالہ نے مقدمہ کے متعلق کچھ گفتگو حضرت اقدسؑ اور آپ کے موجودہ احباب سے کی۔حضرت اقدسؑ نے ایک مقام پر فرمایاکہ ہماری مُراد سزا سے نہیں ہے کہ اسے سزا ضرور ہو۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے یوسفؑ کی حقیقت عزیز ِمصر کے سامنے کھل گئی تھی ویسے ہی ہماری بھی حقیقت کھل جاوے۔یوسف نے جیل خانہ سے باہر نہیں قدم نکالا جب تک اپنا باعصمت ہونا ثابت نہ کرا دیا۔۱ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ (بوقتِ سیر) دَآبَّةُ الْاَرْضِ کی حقیقت حسب معمول حضرت اقدسؑ سیر کے لئے باہر تشریف لائے اور نواب محمد علی خان صاحب کے مکان کے آگے آکر تھوڑی دیر نواب صاحب کا انتظار کرتے رہے جب نواب صاحب تشریف لائے تو روانہ ہوئے اور فرمایا کہ نئی تحقیقات نے دَآبَّةُ الْاَرْضِ کی بہت تائید کی ہے اور اس کے معنے کھول دیئے ہیں کہ وہ ایک کیڑا ہی ہے اور پھر یہ بھی کہ بہت باریک ہے جیسے کہ سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں ہے تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ (سبا : ۱۵) باریک ہی تھا تو اندر اندر کھاتا رہا اور پتہ نہ لگا۔اور تُكَلِّمُهُمْ (النَّمْل : ۸۳) سے مُراد بھی یہی ہے کہ طاعون ہو کیونکہ ایک اور مقام پر قرآن شریف میں ہے کہ ہم ہر ایک قریہ کو قیامت سے پہلے ہلاک یا عذاب کریں گے۔مغضوب علیہ اور ضالّ کا فرق مَغْضُوْبِ عَلَیْـہِمْ کا آخر جیسے موت ہے اس طرح الضَّآلِّيْنَ کا بھی آخر موت ہے مگرآہستہ آہستہ۔کیونکہ ضلالت کے معنے ہیں راستے سے بہک جانا بھٹکتے پھرنا۔آخر انسان کو جب کوئی راہ نہ ملا تو مَر ہی جاوے گا۔ریگستانوں وغیرہ میں لوگ راستہ بھول کر مَر ہی جاتے ہیں۔لیکھرام مغضوب علیہم تھا اور