ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 274

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۴ جلد سوم محرقہ اور مدقوق میں ہوتا ہے کہ ایک جلدی ہلاک ہوتا ہے اور ایک آہستہ آہستہ ہلاکت تک پہنچتا ہے مگر انجام کار دونوں ہلاک ہوتے ہیں کوئی آگے کوئی پیچھے۔ پھر مفتی محمد صادق صاحب نے حسب الحکم کتب سابقہ میں حفاظت الہی کا وعدہ حضرت اقدس وہ تمام حوالہ جات کتب سابقہ کے سنانے لگے جن کا ارشاد حضرت اقدس نے صبح کی سیر میں کیا تھا اور اس کا خلاصہ یہ ہے۔ ا زبور ۹۱ ۔ وہ جو حق تعالیٰ کے پردہ تلے سکونت کرتا ہے سو قادر مطلق کے سایہ تلے رہے گا۔ میرا خدا جس پر میرا تو گل ہے یقیناً وہ تجھ کو صیاد کے پھندے سے اور مہلک وبا سے رہائی دے گا ۔ وہ تجھے اپنے پروں تلے چھپاوے گا۔ اور کہ اس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے اور نہ اس مری سے جو دو پہر کو ویران کرتی ہے۔ تیرے آس پاس ایک ہزار گر جاویں گے اور دس ہزار تیرے دہنے ہاتھ پر۔ لیکن وہ تیرے نزدیک نہ آوے گی ۔ تو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن اختیار کیا اس لئے تجھ پر کوئی آفت نہ آوے گی اور کوئی و با تیرے خیمہ کے پاس نہ پہنچے گی ۔“ 66 پھر حضرت اقدس نے ذکر سنایا کہ لالہ شرمیت کا حسن ظن شرمی آریہ میرے پاس مشورہ لینے آیاتھا کہ مجھے بخارا معلوم ہوتا ہے۔ جسم گرم ہے۔ ٹیکہ کراؤں یا نہ۔ میں نے کہہ دیا کہ نہ کراؤ کیونکہ اس سے تو حرارت اور زیادہ ہوگی ۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا دستور ہے کہ مجھ سے ہمیشہ مشورہ دریافت کرتے ہیں بلکہ لیکھرام کے قتل کے دنوں میں ایک دفعہ یہ دوا پوچھنے آیا تو میں نے کہا کہ اس وقت تو تم ہمیں دشمن جانتے ہو کہ اس کے قاتل ہم ہیں۔ ہماری دو اتم کو لینی مناسب نہیں ہے مگر اس نے کہا کہ ہم کو یقین ہے آپ دوا دے دیں۔ پھر فرمایا کہ ایک الہام رات کو مجھے ایک اور فقرہ الہام ہوا تھا بھول گیا تھا ب یاد آیا ہے وہ یہ ہے احَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ -