ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 261

طاعون کی کیا مجال ہے کہ راست باز کے پاس آئے احباب میں سے ایک نے ذکر سنایا کہ آج قادیان میں ٹیکہ والے آئے تھے باہر باغ میں انہوں نے سب کو بلایا اور ایک لمبی تقریر کی جس میں ٹیکہ کے فوائد لوگوں کو بتلائے انجام یہ ہوا کہ سب نے اس اَمر پر اتفاق کر لیا کہ ہم ٹیکہ لگوائیں گے۔تقریر کرنے والے صاحب رائے پرتاپ سنگھ تھے یہ بھی کہا انہوں نے کہ میں نے مرزا صاحب کو بھی تاکید کرنی تھی مگر چونکہ انہوں نے ماننا نہیں اور ڈھنگ بنایا ہوا ہے اس لئے میں سرِدست ان کی خدمت میں کچھ نہیں کہتا پھر کسی وقت موقع ہوا تو کہوں گا اس نے یہ بھی کہا کہ میں یہاں نہ آتا مگر چونکہ متواتر طور پر رپورٹ پہنچی ہے کہ چوڑھوں میں طاعون ہے اس لئے آنا پڑا۔اس پر حکیم نوردین صاحب نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں نہالی چوڑھی آتی ہے میں نے اس سے طاعون کا حال دریافت کیا تھا وہ کہنے لگی کہ طاعون تو ہے نہیں ایک لڑکی مَری ہے وہ کئی دنوں سے بیمار تھی اب کہتے ہیں طاعون سے مَری۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ چوڑھوں میں ہمیشہ کبھی نہ کبھی ایسی موتیں ہوتی رہتی ہیں ایک دفعہ اسی موسم میں پچاس ایک دفعہ ہیضہ سے مَر گئے تھے حالانکہ طاعون وغیرہ نہ تھی اور چوڑھوں کامحلہ تو ہم سے ایسا ہی دور ہے جیسے کہ ننگل اور بھینی(دو گاؤں متّصل قادیان)۔یہ لوگ زبردستی اسے الحاق کرتے ہیں (آخر کار چوڑھوں کی موت کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ان لوگوں نے مُردہ مویشی اس وقت کھائے جب کہ وہ متعفّن ہو گئے تھے)۔پھر بیان کیا گیا کہ ٹیکہ والوں نے سرِدست کل اکابران دِہ ہندو، مسلمان کے دستخط کرا لیے ہیں شاید کل یا پرسوں آویں گے حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمارے دستخط کشتی نوح میں ہیں جو خدا کے ساتھ سیدھا اور راست ہوگا تو طاعون کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس آوے۔پھر جماعت کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا کہ صحابہؓ میں بھی طاعون ہوتا رہا ہے ہاں انبیاء کو ہرگز نہیں ہوا۔اگر کوئی اس پر سوال کرے تو جواب