ملفوظات (جلد 3) — Page 260
بارے میں ہے اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ (صٓ : ۷۶) یہ اس سے سوال ہے کہ تیرا علو تکبّر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلیٰ کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰى (طٰہٰ : ۶۹) مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبّر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔۱ شاہ عبد العزیز صاحب کے ایک شاگرد کا غلط فتویٰ شاہ عبد العزیز صاحب کے شاگردوں میں سے ایک کا ذکر ہوا فرمایا کہ ایک دفعہ وہ شاید بٹالہ میں تھے تو ایک نے حقہ کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا (حالانکہ غلط تھا) حقہ دو قسم کا ہے ایک وہ جو کہ تکیوں میں ہوتا ہے دس دس دن تک پانی نہیں بدلتے اسے غسل نہیں دیتے وہ تو حرام ہے اور دوسرا جس کا پانی بدلتا رہتا ہے اور اسے غسل دیتے رہتے ہیں وہ حلال ہے۔مُردوں کے قبروں سے نکلنے کی تعبیر پھر اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب ایک انگریزی کتاب حضرت اقدس کو سناتے رہے جس میں ایک موقع پر یہ بھی تھا کہ جب مسیح کو صلیب دی گئی تو اس وقت مُردے قبروں میں سے نکلے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ عالَمِ رؤیا میں مُردہ کے قبر سے نکلنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ کوئی گرفتار آزاد ہو ممکن ہے کہ کسی نے اس وقت کشفی عالَم میں یہ دیکھا ہو ورنہ یہ اپنے ظاہری معنوں پر ہرگز نہیں ہوا۔