ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 249

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۹ جلد سوم میں نے ایک اہل حدیث سے پوچھا کہ اگر دو جانور پیش کیے جاویں تو کیا آپ فرق کر سکتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ یہ مسیح کا ہے اور وہ خدا کا ہے۔ اس نے یہی کہا کہ اب رل مل گئے ہیں ۔ اس لیے تمیز نہیں ہو سکتی ۔ پھر جب حضرت عیسیٰ کو خالق مانتے ہیں ۔ محی مانتے ہیں۔ عالم الغیب مانتے ہیں۔ اور بقول اُن کے قرآن میں اُن کی موت کا بھی کہیں ذکر نہیں تو پھر خدا بنانے میں کیا شک رہا۔ تعجب کی بات ہے کہ وہی مُتَوَفِّيكَ کا لفظ حضرت مسیح کی نسبت آئے تو اس کے معنے ہوں جسم سمیت آسمان پر اٹھانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آئے تو کہہ دیا جائے کہ اس کے معنے ہیں مرنا۔ اب غور کر کے بتاؤ کہ عیسائیوں کو کتنا بڑا موقع اور ہتھیا رحملہ کرنے کا آپ دیدیا ہے۔ اگر عیسائی سوال کریں تو پھر ان کے پاس کیا جواب ہے؟ آپ نہ پڑھ سکیں گے کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ يا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی۔ کیونکہ اس کے معنے انہوں نے آسمان پر زندہ اٹھانے کے کیے ہیں ۔ پھر کس آیت سے ان کی وفات ثابت کریں گے اور خدائی کو باطل کریں گے۔ یقیناً سمجھو کہ ان ہتھیاروں سے ان پر فتح نہیں پاسکتے ۔ ان پر فتح اور کسر صلیب کے لیے وہی ہتھیار اور حربہ ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ بیشک مسلمانوں کو اس کی پروا نہیں کہ اسلام پر کیا آفت آرہی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کو پروا ہے جس کا باغ ہے اس کو پروا ہے۔ اس کا باغ کا ٹا جاتا ہے اور جلایا جاتا ہے۔ بر باد کیا جاتا ہے۔ اس کی غیرت نے اس کی حفاظت کے لیے تقاضا کیا ہے اور اب ایک سلسلہ خود اس نے قائم کیا ہے اور کوئی نہیں ہے جو اس کو روک سکے ۔ لے ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء ( صبح کی سیر ) فرمایا۔ له دل اللہ کے قابو میں ہیں جب تک وہ سمجھانے پر نہ آئے دل کب کھلتا ہے اور کان کب سنتے ہیں۔ منجملہ اسلام کی بہتری کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بڑے آدمی دیندار ہو جائیں اور یہ ه الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱ تا ۴