ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 248

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۸ جلد سوم ایک خیالی نقشہ اپنے دلوں میں بنائے بیٹھے ہیں ۔ پھر حدیث میں آیا ہے کہ دجال کے لیے سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھو۔ اس میں بھی ان کا ہی ذکر ہے اور احادیث میں ریل کا بھی ذکر ہے۔ غرض جہاں تک غور کیا جاوے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ امر ذہن میں آجاتا ہے کہ دجال سے مراد یہی نصاری کا گروہ ہے۔ دَابَّةُ الْأَرْضِ دابة الارض کے دو معنے ہیں۔ ایک تو وہ علماء جن کو آسمان سے حصہ نہیں ملا۔ وہ زمین کے کیڑے ہیں ۔ دوسرے دابۃ الارض سے مراد طاعون ہے۔ دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ (سبا : (۱۵) قرآن شریف سے یہ بھی ثابت ہے کہ جب تک انسان میں روحانیت پیدا نہ ہو یہ زمین کا کیڑا ہے اور طاعون کی نسبت بھی سب نبیوں نے پیشگوئی کی تھی کہ مسیح کے وقت پھیلے گی ۔ تعلم الناس تکلیم کاٹنے کو بھی کہتے ہیں ۔ اور خود قرآن شریف نے ہی فیصلہ کر دیا ہے ۔ اس سے آگے لکھ دیا ہے کہ وہ اس لیے لوگوں کو کھائے گی کہ ہمارے مامور پر ایمان نہیں لائے ۔ یہ غور کرنے کے مقام ہیں ۔ اب زمانہ قریب آگیا ہے اور لوگ سمجھ لیں گے۔ طاعون بڑا بھاری کتب مقدسہ اور احادیث میں مسیح موعود کا نشان ہے۔ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی ہوئی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے مجھے جو کچھ طاعون کی نسبت فرمایا ہے اُسے میں نے مفصل لکھ دیا ہے۔ یہ میرانشان ہے۔ جس قدر اس کا تعلق پنجاب سے ہے دوسرے حصہ ملک سے نہیں ہے۔ یہ اس لیے کہ اصل جڑ اس کی پنجاب میں مخفی ہے۔ سہارنپور وغیرہ میں جو لوگ اس سلسلہ کو بری نظر سے دیکھتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پنجاب کی طرف سے تکفیر کا فتوی تیار ہوا ہے اور پنجاب والوں نے پیش دستی کی ہے اور تہمتیں لگا کر بدنام کیا ہے۔ مگر اب جو یہ بلا آئی ہے۔ سوچ کر دیکھو تو دشمن اسی طریق سے مانے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تو یہ خیال کرتے ہو کہ وہ زمین میں دفن ہوئے اور حضرت عیسی کی نسبت یہ عقیدہ کہ وہ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور پھر یہ کہ مسیح مردے زندہ کرتے تھے اور وہ خالق تھے اور انہوں نے پرندے بنائے یہاں تک کہ لاکھوں کروڑوں پرندے اب بھی موجود ہیں۔