ملفوظات (جلد 3) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد سوم بھی کہا ہوتا ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ اور وَلَا الضَّالِّينَ کے متعلق تمام مفسر متفق ہیں کہ ان سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔ جب پانچ وقت نمازوں میں ان فتنوں سے بچنے کے لیے دعا کی تعلیم کی گئی ہے کہ الضَّالِّينَ سے نہ کرنا اور نہ مغضوب قوم میں سے بنانا ۔ تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا اور اہم فتنہ یہی تھا جو ائم الفتن کہنا چاہیے۔ اور باتوں کو جانے دو۔ واقعات مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ثابت ہوتا ہے بھی تو کچھ چیز ہیں۔ متشابہات کی بحث میں نہ پڑو ۔ مگر یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ پیشگوئیوں کے وہ معنے ہوتے ہیں جو واقعات کی رو سے صحیح ثابت ہو جائیں ۔ اب تیرہ سو برس گزر گئے اور محدثین کا اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ کوئی کشف اور الہام چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتا۔ سب گویا بالاتفاق یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی سے آگے نہیں ۔ خود عیسائی قوموں میں مسیح موعود کی بعثت کا وقت یہی سمجھا اور مانا جاتا ہے اور ضروریات مشہودہ محسوسہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ آنے والے کے لیے یہی وقت ہے۔ وہ علامات اور نشانات جو مقرر کیے گئے تھے سب اپنے اپنے وقت پر پورے ہو گئے ۔ یا جوج ماجوج بھی من كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء : ۹۷) کا نظارہ دکھا رہے ہیں اور دجال بھی اپنے دجل اور فریب سے ایک عالم کو ہلاک کر رہا ہے۔ مگر فرضی دجال جو مسلمانوں کے تخیل میں ہے اس کا ابھی نام و نشان نہیں ۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن شریف میں تو لکھا ہوا ہے کہ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (ال عمران : ۵۶) اور اَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (المائدۃ: ۱۵) اور وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (المائدة: ۶۵) یعنی قیامت تک عیسائیوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود آکر عیسائیوں سے لڑائی کرے گا۔ میں کہتا ہوں کہ پھر وہ دجال کہاں گیا جس کی بابت کہتے ہیں کہ حرمین کے سوا اس کا دخل ساری جگہ ہوگا۔ اس تناقض کا جواب ان کے پاس کیا ہے۔ دجال تو کھوٹ کرنے والا ہے۔ اس لیے اس کے معنے تاجر کے