ملفوظات (جلد 3) — Page 17
عصمت اور شفاعت (ایڈیٹرکے اپنے الفاظ میں ) تعجب ہے کہ عیسائی لوگ شفاعت کے لیے عصمت کامطالبہ کیوں کرتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں نری عصمت شفاعت کاموجب نہیں ہو سکتی بلکہ شفاعت تب ہو سکتی ہے جب کہ شفیع معصوم ہو اور پھر وہ اِبن اللہ ہو اور پھر صلیب پر لٹکایا جاکر ملعون ہو۔جب تک یہ تثلیث عیسائی مذہب کے عقیدہ کے موافق قائم نہ ہو شفیع نہیں ہوسکتا۔پھر وہ عصمت عصمت ہی کیوں پکارتے ہیں۔کیا اگر کوئی معصوم اُن کے سامنے پیش کیا جاوے یا ثابت کردیا جاوے تو وہ مان لیں گے کہ وہ شفیع ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ عیسائی عقیدہ کے موافق یہ ضروری ہے کہ وہ خدا بھی نہ ہو بلکہ ابن اللہ ہو اور وہ مصلوب ہو کر جب تک ملعون نہ ہولے ہرگز ہرگز وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔پھر ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ جبکہ یسوع خود خدا تھا اور اس لیے وہ علّت الْعِلَل تھا اور اس نے کل جہان کے گناہ بھی اپنے ذمے لئے پھر وہ معصوم کیوں کر ہوا۔اَور گناہوں کا تذکرہ ہم چھوڑتے ہیں جو یہودی مؤرخوں اور فری تھنکروں (آزاد خیال )نے ان کی انجیل سے ثابت کیے ہیں لیکن جب اس نے خو دگناہ اُٹھالیے اور بوجہ عِلَّتُ الْعِلَل ہونے کے سارے گناہوں کا کرانے والا وہی ٹھہرا تو پھر اسے معصوم قرار دینا عجیب دانش مندی ہے۔پھر خدا کا نام معصوم نہیں کیونکہ معصوم وہ ہے جس کا کوئی دوسرا عاصم ہو۔خدا کا نام عاصم ہے۔اس لیے جب شفاعت کے لیے ابنیت کی ضرورت ہے اور اُس کے لیے بھی مصلوبیت کی لعنت ضروری ہے تو یہ سارا تانابانا ہی بنائے فاسد بر فاسد کامصداق ہے۔حقیقی اور سچی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لیے ضروری ہے کہ اوّل خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو تاکہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہو تاکہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتاہے مخلوق کو پہنچاوے۔جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہوسکتا۔پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابلِ غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بحثیں فرضی ہیں۔مسیح کے نمونہ کودیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے۔ہمیشہ اُن کو سُست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل