ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 240

ِقَامُ الصَّلٰوۃ کرتے ہیں تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بار اُسے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی اور وہ فارغ ہی نہیں ہوسکتا۔ہمیشہ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے۔اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی ا سے چکھتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔مومن کو بے شک اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت دعائیں کرنی چاہئیں مگر نماز کے بعد جو دعائوں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوار و یہ بھی دعا ہے۔کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں۔پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔کوئی اثر روحانیت اور خشوع وخضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کایہی سبب ہے کہ وہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے ایسی نمازوں کے لیے وَیْلٌ آیا ہے۔دیکھو! جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جوہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لیے اسے اس کو پھینک دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔اوّل اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوںکو بھی سنبھالے۔اس لیے نما زکو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔سائل۔الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ان کو تو دعا مانگنی چاہیے۔حضرت اقدسؑ۔ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطہ کی طرح مت پڑھو۔سوائے قرآن شریف کے جو ربِّ جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامعمول تھیں نماز بابرکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔اس لیے ہرشخص کہ جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعائوں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔اس لیے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نما زکے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں۔اور ہم بھی کر لیتے ہیں اگر چہ ہمیں تو عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں۔مگر مادری زبان کے