ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 239

۱۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (دربارِ شام) دعا بعد نماز مولوی سید محمود شاہ صاحب نے جو سہار نپور سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرماہوئے۔یہ عرض کیا کہ میں نے آج تحفہ گولڑویہ اور کشتی نوح کے بعض مقامات پڑھے ہیں۔میں ایک اَمر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔اگر چہ وہ فروعی ہے لیکن پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں،لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز نہیں مانگتے۔اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں۔اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہی ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندو ستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لیے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شَے ہے کہ جس سے ایک ذوق اُنس اور سرور بڑھتا ہے۔مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضورِ قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لُطفی پیدا ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضورِ قلب کی کوشش کریں جس سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضورِ قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لیے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا (جو مومن کی معراج ہے) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لیے اُمُّ الادعیہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ دعا مانگی جاتی ہے۔انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اِقَامُ الصَّلٰوۃ نہ کرے۔اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ اس لیے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے مگر جو شخص