ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 16

یہاں تو شورِعظیم میری مخالفت میںبرپا کیاگیا او ر گندی گالیاں دی گئیں جن کی نظیر پہلے مخالفوں میں بھی پائی نہیں جاتی۔حجج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ آیا ت پوری ہوگئی ہیں اور پھر اپنی اولاد کو سلام کی وصیت کرتاہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو خود بھی ان مخالفت کرنے والوں ہی کے ہمراہ ہوتے۔یہ لوگ کب ماننے والے ہوتے ہیں جب تک وہی نظارہ آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جو خیالی طور پر دل میں فرض کر رکھا ہے۔یہ لوگ جو کچھ ان سے بَن پڑتا ہے میری مخالفت میں کریں مجھے ذرا بھی پروا نہیں کیونکہ یہ میرامقابلہ نہیں یہ تو خدا سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔اگر میری اپنی مرضی پر ہوتا تو میں تخلیہ کو بہت پسند کرتا تھا مگر میں کیا کر سکتا تھا جب کہ خدا تعالیٰ نے ہی ایسا پسند کیا۔یہ مقابلہ کریں مگر دیکھ لیں گے کہ خدا کے ساتھ کو ئی جنگ نہیں کرسکتا۔وہ ایک طُرفۃ العین میں سالہاسال کی کارروائی کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔اس لیے ہمیں خوشی ہے اور ان کی مخالفت سے ذرا بھی رنج نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے جو سار ی خوبیوں سے متّصف ہے جیسا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ میں ہم کوپہلے ہی بتایا گیا ہے۔پھر خداداری چہ غم داری ہمیں ان کی مخالفت کا کیا فکر؟ ہم کیوں بے حوصلہ ہوں؟ کیا معلوم ہے کہ اُس نے اس مخالفت کے طوفان کے انجام میں کیا مقدر رکھاہے؟ یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ(ابراہیم :۱۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انبیاء او ر رُسل آتے ہیں وہ ایک وقت تک صبر کرتے ہیں اور مخالفوں کی مخالفت جب انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو ایک وقت توجہ تام سے اقبال علی اللہ کر کے فیصلہ چاہتے ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہوتاہے وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔اِسْتَفْتَحُوْا سنّت اللہ کو بیا ن کرتاہے کہ وہ اس وقت فیصلہ چاہتے ہیں اور اس فیصلہ چاہنے کی خواہش ان میں پیدا ہی ا س وقت ہوتی ہے جب گویا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے پس ہم اپنے مخالفوں کی مخالفت کی کیا پروا کریں یہ مخالف نوبت بہ نوبت اپنے فرضِ منصبی کو سر انجام دیتے ہیں۔ابتدا ان کی ہوتی ہے اور انجام متقیوں کا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (الاعراف : ۱۲۹ ) ۱