ملفوظات (جلد 3) — Page 223
ہے تو اس کے دل میں ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے۔پس جب تک دل کا واعظ نہ ہو تسلّی نہیں ہو سکتی۔پس دینی امور میں جب تک تقویٰ نہ ہو روح القدس سے تائید نہیں ملے گی۔وہ شخص ضرور ٹھوکر کھا کر گرے گا۔اس دین کی جڑتقویٰ اور نیک بختی ہے اور یہ ممکن نہیں جب تک خدا پر یقین نہ ہو۔اور یقین سوائے خدا کے اور سے ملتا نہیں اسی لیے فرمایاوَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنکبوت : ۷۰) پس انسان دنیا کوچھوڑکر اپنی زندگی پر نظر ڈالے اور اپنی حالت پر رحم کرے کہ میں نے دنیا میں کیا بنایا سوچے اور ظاہر ی الفاظ کی پیروی نہ کرے۔اور دعا میں مشغول رہے تو امید ہے کہ خدا اس کو اپنی راہ دکھا دے گا۔نیک دل لے کر خداکے سامنے کھڑا ہو اور رو رو کر دعائیں مانگے۔تضرّع اور عاجزی کرے تب ہدایت پاوے گا۔ایک فرقہ وہ بھی ہے جو ہماری باتوں کو قبول نہیں کرتا۔اس سے ہماری بحث نہیں۔اُن کی سرشت میں انکا ر ہے۔وہ موت کے بعد اس کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔سعادت مند کو تو سمجھانے کی ضرورت نہیں۔پتھر پر لو ہا مارنے سے آگ اس لئے نکلتی ہے کہ آگ پتھر میں موجود ہے اور وہ صرف ضرب کا محتاج تھا، مگر جس کے اندر موجودنہیں اس میں سے کیا نکلے گا۔ہر ایک نیکی تب قبول ہو تی ہے جب کہ اس کے اندر تقویٰ ہو ورنہ قبول نہیں ہو تی۔زندگی تو برف کے ٹکڑے کی مثال رکھتی ہے۔ہزاروں پردوں میں رکھو پگلتی جاوے گی۔اصل میں مخالف کی بات کا امتحان مخالف سے پوچھ کر ہوتا ہے۔میں نے تو اپنا مسلک بیان کردیا ہے۔میرے پاس بہت عیسائی آیا کرتے تھے، اب نہیں آتے۔میں تو ہمیشہ ان کو یہی کہتا ہوں کہ زندہ مذہب ثابت کرو۔مُردہ تو ہمیں اُٹھاناپڑے گا اور زندہ ہم کو اُٹھاوے گا،کچھ جواب نہیں دے سکتے۔یورپ امریکہ میں ۱۶ ہزار اشتہار رجسٹری کرا کر بھیجا کوئی جواب نہیں آیا۔ہماراخدا زندہ ہے۔ہماری آواز سنتا ہے۔ہمیں جواب دیتاہے۔پس ہم صلیب پر چڑھے ہوئے خدا کو کیوں مانیں۔یہ لوگ شریر ہوتے ہیں اور ان کے پاس باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں۔میں ۱۵ برس کا تھا جب سے ان کے اور میرے درمیان مباحثات شروع ہیں۔ان کے پاس صرف اعتراض