ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 222

تبدیلی کرے تو اس پر انوار و برکات نازل ہو نے شروع ہو جاتے ہیں۔آجکل اسلام کے بہت فرقے ہو گئے ہیں۔گویا گھر گھر ایک فرقہ بنا ہو ا ہے۔اس سے تشویش ہو گئی ہے۔ایک طرف شیعہ ہیں کہ حسینؓکو مثل لات کے بنا رکھا ہے تو ایک شخص کہہ دے گا کہ کہاں جاؤں شیعہ حسین پرست بنے ہوئے ہیں۔خوارج علیؓ کو گالیاں دیتے ہیں۔درمیان میںاہلِ سنّت ہیں اگرچہ بظاہر اُن کا اعتدال نظر آتا تھا مگر اب انہوں نے ایسے قابلِ شرم اعتقاد بنارکھے ہیں کہ وہ شرک تک پہنچ گئے ہیں۔مثلاً مسیح کو خالق بنا رکھا ہے۔احیائے موتیٰ کرنے والا ماناہوا ہے۔پس پاک مذہب وہی ہے جو قرآن کامعیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اگرچہ انسان بظاہر گھبراتا ہے کہ اس پاک مذہب کو میں کس طرح پاؤں۔مگر یاد رکھو کہ جو یندہ یابندہ صبر اور تقویٰ ہاتھ سے نہ دے ورنہ خدا تعالیٰ غنی ہے۔اس کو کسی کی کیا پروا ہے پس انسان خدا کے سامنے خاکسار بنے تو اس پر لُطف اور احسان کرتا اور اس کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔توبہ، دعا، استغفار کرے اور کبھی نہ گھبراوے ہر ایک شخص بیمار ہے اور کبھی صحت نہیں پا سکتا جب تک خدا کونہ دیکھ لے۔پس ہر وقت اداس اور دل برداشتہ رہے اور تمام تعلقات کو توڑ کر خدا سے تعلق پیدا کرے ورنہ اس وقت تک جب تک کہ خدا سے نہیں ملا یہ گندہ اور نجس ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى۔الآیۃ (بنیٓ اسـرآءیل:۷۳) خدا پر یقین بڑی دولت ہے۔پس اندھا وہی ہے جس کو اس دنیا میں خدا پر پورا یقین حاصل نہیں ہوا۔پس جب اس کا حسن، جمال، جلال اس پر ظاہر ہوگا تو خدا کی تجلّی ہوگی۔اور پھر یہ دیکھ کر ممکن نہیں کہ گناہ کی طرف انسان رجوع کرسکے۔پس گناہ بھی تبھی کرتا ہے جب اس کو خدا پر شک پڑجاتا ہے۔پس جو شخص نفس کا خیر خواہ ہے اس کو تو خدا پر یقین ہونا چاہیے۔مسیح کے زمانہ میں تو گناہ کی کمی تھی مگر کفّارہ نے دنیا کو گناہ سے پُر کر دیا۔انسا ن اپنی کوشش سے کچھ نہیں کر سکتا۔حدیث میں آیا ہے کہ تم سب اندھے ہو مگر جس کو خدا آنکھیں دے۔تم سب بہرے ہو مگر جس کو خدا کان دے وغیرہ وغیرہ۔پس جب انسان کو خدا ہدایت دینے لگتا