ملفوظات (جلد 3) — Page 222
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ جلد سوم تبدیلی کرے تو اس پر انوار و برکات نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ آجکل اسلام کے بہت فرقے ہو گئے ہیں ۔ گویا گھر گھر ایک فرقہ بنا ہوا ہے۔ اس سے تشویش ہو گئی ہے۔ ایک طرف شیعہ ہیں کہ حسین کو مثل لات کے بنا رکھا ہے تو ایک شخص کہہ دے گا کہ کہاں جاؤں شیعہ حسین پرست بنے ہوئے ہیں۔ خوارج علی کو گالیاں دیتے ہیں ۔ درمیان میں اہلِ سنت ہیں اگر چہ بظاہر ان کا اعتدال نظر آتا تھا مگر اب انہوں نے ایسے قابل شرم اعتقاد بنارکھے ہیں کہ وہ شرک تک پہنچ گئے ہیں ۔ مثلاً مسیح کو خالق بنا رکھا ہے۔ احیائے موتی کرنے والا مانا ہوا ہے۔ پس پاک مذہب وہی ہے جو قرآن کا معیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اگر چہ انسان بظا ہر گھبراتا ہے کہ اس پاک مذہب کو میں کس طرح پاؤں ۔ مگر یاد رکھو کہ جو بندہ یا بندہ صبر اور تقولٰی ہاتھ سے نہ دے ورنہ خدا تعالیٰ غنی ہے۔ اس کو کسی کی کیا پروا ہے پس انسان خدا کے سامنے خاکسار بنے تو اس پر لطف اور احسان کرتا اور اس کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ تو بہ ، دعا ، استغفار کرے اور کبھی نہ گھبراوے ہر ایک شخص بیمار ہے اور کبھی صحت نہیں پا سکتا جب تک خدا کو نہ دیکھ لے۔ پس ہر وقت اداس اور دل برداشتہ رہے اور تمام تعلقات کو توڑ کر خدا سے تعلق پیدا کرے ورنہ اس وقت تک جب تک کہ خدا سے نہیں ملا یہ گندہ اور نجس ہے ۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى الآية (بنی اسراءیل : ۷۳) خدا پر یقین بڑی دولت ہے۔ پس اندھا وہی ہے جس کو اس دنیا میں خدا پر پورا یقین حاصل نہیں ہوا۔ پس جب اس کا حسن، جمال ، جلال اس پر ظاہر ہو گا تو خدا کی تجلی ہوگی۔ اور پھر یہ دیکھ کر ممکن نہیں کہ گناہ کی طرف انسان رجوع کر سکے۔ پس گناہ بھی تبھی کرتا ہے جب اس کو خدا پر شک پڑ جاتا ہے۔ پس جو شخص نفس کا خیر خواہ ہے اس کو تو خدا پر یقین ہونا چاہیے۔ مسیح کے زمانہ میں تو گناہ کی کمی تھی مگر کفارہ نے دنیا کو گناہ سے پر کر دیا۔ انسان اپنی کوشش سے کچھ نہیں کر سکتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم سب اندھے ہو مگر جس کو خدا آنکھیں دے۔ تم سب بہرے ہو مگر جس کو خدا کان دے وغیرہ وغیرہ۔ پس جب انسان کو خدا ہدایت دینے لگتا