ملفوظات (جلد 3) — Page 221
ہیں کہ اس کو کھاتے اور خدا سے روکتے ہیں۔اور انہیں کی وجہ سے انسان اور خدا کے درمیان ایک بُعد پڑاہوا ہے۔پس اس مذہب میں ایسے وسائل ہوں جو اس کوروز بروز کھینچتے جاویں اور کامل یقین پیدا کرا کر خدا سے ملاویں۔دنیا تو یہی سمجھتی ہے کہ کیا ہم خدا کے منکر ہیں۔لیکن اس کے اعمال کہتے ہیں کہ ضرور وہ منکر ہے۔میں نے اس بات کا ذکراکثر کتابوں میںبھی کیا ہے۔دیکھو! اگر ایک سوراخ میں سانپ ہو تو کیا ایک شخص اس بات کو جان کر کہ اس سوراخ کے قریب جاوے گا یا اس میں ہاتھ ڈالے گا؟ ایک بَن میں بہت درندے رہتے ہیں کیا باوجود علم کے اس بَن میں کوئی جاوے گا؟ ایک زہریلے کھانے کو علم پاکر کھاوے گا؟ پس معلوم ہوا کہ یہ اَمر یقین کے لوازم میں سے ہے کہ جس چیز کو وہ مہلک سمجھتا ہے،اس کے قریب نہ جاوے۔پس ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک موقع پر حقوقِ انسانی کو چھینتا ہے، تلف کرتا ہے، رشوت لیتا ہے، چوری کرتا ہے، بد معاشی کرتاہے، نہ غصہ اعتدال پر ہے وغیرہ وغیرہ۔پھر پیرانہ سالی اس کو ان گناہوں سے چھڑاتی ہے، پر جب تک جسمانی قویٰ اس کے ساتھ ہیں ہر ایک قسم کی بد کاریاں کرتا ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خدا پر ایمان نہیں۔ہر ایک شخص اپنے نفس سے گواہی لے سکتا ہے کہ جیسا اس کا حق ہے اعتدال پر چلنے کا، ویسا وہ نہیں چلتا۔پس بڑا مقصود یہ ہے کہ یہ جو بے اعتدالیاں انسان سے ظہو ر میں آتی ہیں۔ان پر غور کرے کہ اُن کا کیا سبب ہے تو آخر معلوم ہو گاکہ جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے وہ پورا پورا نہیں ہے۔بعض دفعہ احسا ن سے اور بعض دفعہ خوف سے گناہ کم ہو جاتے ہیں۔جیسے نسبتاً شریر لوگ ایام امراضِ طاعون و ہیضہ میں نمازیں شروع کر دیتے ہیں۔پس ضروری ہے کہ جہاں دو باتیں پائی جاویں، تعلیم پاک اور رفتہ رفتہ خدا تک پہنچ جانا وہی سچا مذہب ہے۔اور یہ دونوں ذریعے ایسے ہیں کہ سوائے اسلام کے کہیں نہیں ملیں گے۔جس خدا کو اسلام پیش کرتا ہے اس صفائی سے اور کسی مذہب نے پیش نہیں کیا۔ایک طرف تو اسلام کی تعلیم اعلیٰ ہے دوسری طرف ایک شخص دس دن بھی