ملفوظات (جلد 3) — Page 219
عقل مند وہی ہے جو خدا کی طرف توجہ کرے، خدا کو ایک سمجھے اس کے ساتھ کوئی نہیں۔ہم نے آزماکردیکھاہے نہ کوئی دیوی نہ دیوتا کوئی کام نہیں آتا۔اگر یہ صرف خدا کی طرف نہیں جھکتا تو کوئی اس پررحم نہیں کرتا۔اگر کوئی آفت آجاوے تو کوئی نہیں پوچھتا۔انسان پر ہزاروں بلائیں آتی ہیں پس یا د رکھو کہ ایک پرور دگار کے سوا کوئی نہیں، وہی ہے جو ماں کے دل میں بھی محبت ڈالتا ہے۔اگر اس کے دل کو ایسا پیدا نہ کرتا، تو وہ بھی پرورش نہ کر سکتی۔اس لیے اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرو۔۱ ۱۰ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء (یوم جمعہ ) تحفۃ النَّدوۃ فرمایا۔ندوہ میں لوگ اتمامِ حجّت کی غرض سے ہم نے بھیجے ہیں۔ورنہ کچھ بہتری کی امید ہرگز نہیں۔کیونکہ ان کے اغراض عوام سے وابستہ ہیں۔یہاں تو ان کو تحفۃ النَّدوۃ دے کر بھیجا ہے۔اگر خدا نے چاہا تو نزول المسیح دلّی میں بھیجیں گے۔والسّلام ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء (یوم شنبہ ) جلدی میں رائے قائم نہ کریں ایک صاحب نو وارد کوجن کانام مولوی حامد حسین صاحب تھا مخاطب کر کے فرمایا۔بہتر ہے کہ آپ پانچ سات دن یہاں قیام کریں اتنا عزم اور جلد واپس چلا جانا ٹھیک نہیں۔دنیاوی کاموں میں لوگ کتنی تحقیقات اور چھان بین کرتے ہیں۔حقیقت میں جوشخص جلدی رائے قائم کر لیتا ہے وہ دوسروں کو بھی ابتلا میں ڈالتا ہے۔پس خلاف واقعہ رائے ظاہر کرنا خون کرنے کے برابر ہے۔بہت باتیں ایسی ہوتی ہیںکہ جوں جوں انسان ان پر زیادہ غور کرتا ہے، اسی قدر نتیجہ عمدہ نظر